|
سانحہ
کوہستان کے بعد چلاس کا یہ سانحہ بہت ہی افسوسناک
ہے، علامہ سید افتخار حسین نقوی
سانحہ کوہستان کے بعد چلاس کا یہ سانحہ بہت ہی
افسوسناک ہے ۔ اس میں سب سے پہلے صوبہ
خیبرپختونخواہ کی نااہلی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے
کہ حکومت خیبرپختونخواہ کا دہشتگردوں پر کوئی
کنٹرول نہیں ہے اور جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنی
چاہیے تھیں وہ بھی نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے ایک
اور بڑا سانحہ رُونما ہوا اور یہ بین الاقوامی سطح
پر پاکستان کی شہرت کو داغ دار کرنے کا سبب ہے جن
لوگوں نے یہ گھناونا کھیل کھیلا ہے وہ پاکستان کے
مخالف ہیں اور اسلامی وحدت کے دشمن ہیں جبکہ یہ
ملک تمام پاکستان میں بسنے والوں کے لیے ہے اور
پاکستان کے لیے کام کرنا اور اس کے دفاع کو مضبوط
بنانا اور اس میں امن قائم رکھنا ہر پاکستانی شہری
کی ذمہ داری ہے ۔پاکستان کی سڑکیں ، شاہراہیں اور
آمدورفت کے ذرائع کسی ایک گروپ ، جماعت یا فرقے کے
لیے نہیں ہیں بلکہ یہ سب پاکستانیوں کے لیے اور
کوئی بھی ہوجو آمدورفت کے راستوں کو بے امن بناتا
ہے وہ راہزن ہوتا ہے اور اس کے خلاف حکومت کو سخت
ایکشن لینا چاہیے ان خیالات کا اظہار علامہ سید
افتخار حسین نقوی ، رکن اسلامی نظریاتی کونسل اور
چیئرمین امام خمینی ٹرسٹ نے اسلام آباد میں واقع
اپنے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انھوں نے کہا کہ شاہراہِ ریشم ایک اہم شاہراہ ہے
اور اس سے پاکستان کی اقتصادی معیشت وابستہ ہے ۔
اسی شاہراہ سے سیاحت ، آمدورفت اور چین سے زمینی
رابطہ ہوتا ہے اور اسے بے امن بنانا ملکی وقار کے
منافی اور ملک کو معاشی طور پر سخت نقصان پہنچانے
کے مترادف ہے۔
انھوں نے کہاصوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس شاہراہ کو پرامن
بنانے اور اس پر مسافروں کو سلامتی کویقینی بنانے
کے انتظامات کرنا چاہئیں اور جو لوگ حکومت کو
دھمکی دے رہے ہیں اور شاہراہ کو بند کرنے کی باتیں
کررہے ہیں وہ پاکستان کے خیرخواہ نہیں ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں
شیعہ سنی کی بنیاد پر نہ کل لڑائی تھی نہ آج ہے۔
یہ قتل و غارت گری ، دھماکے ، خودکش حملے یہ سب
دہشت گردی ہے اور دہشت گرداپنے جرائم کی پردہ پوشی
مذہبی نعروں سے کرتے ہیں اور اپنے گھناو نے جرم کی
سزا سے بچنے کے لیے اسلامی فرقوں میں جو فروعی
اختلافات ہیں ان کا سہارا لیتے ہیں۔
علامہ صاحب نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گلگت
بلتستان کے شیعہ اور سنی دونوں محب وطن ہیں اور
پاکستان کی شمالی سرحدوں کے محافظ و نگہبان ہیں
اور شمالی سرحدوں کی حفاظت میں سنی اور شیعہ دونوں
مسلمانوں کے جوانوں کا خون صرف ہوا ہے ۔اس کی دلیل
شہداءخیبرپختونخواہ میں ہونے والوں کے مزارات ہیں۔
رکن اسلامی نظریاتی کونسل علامہ سید افتخار حسین
نقوی نے کہا کہ ظاہر ہے گلگت بلتستان میں اکثریتی
آبادی شیعہ مسلمانوں کی ہے اور دہشت گرد راستے میں
جو کاروائیاں کرتے ہیں وہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف
کرتے ہیں جس سے زیادہ نقصان انھی کا ہوتا ہے۔جبکہ
شیعوں نے اس سلسلے میں ہمیشہ صبروتحمل اور برداشت
سے کام لیا ہے اور کبھی بھی کسی سنّی مسلمان کو
قتل نہیں کیاہے اور نہ ہی کسی شیعہ عالم دین نے
مذہبی اختلافات کی بنیاد پر کسی کے قتل کا فتویٰ
دیا ہے۔ ہمارے علماءکا ہمیشہ یہی مطالبہ رہا ہے کہ
دہشت گردوں ،قاتلوں اور ان کے سرپرستوں کو قانون
کے مطابق سزادی جائے اور کسی قسم کی رعایت نہ دی
جائے۔
علامہ افتخار حسین نقوی نے اپنی بات جاری رکھتے
ہوئے کہا کہ کوہستان کا سانحہ اوراب چلاس کا سانحہ
انتہائی افسوسناک ہے جبکہ اس کی جتنی بھی مذمت کی
جائے کم ہے۔ گلگت بلتستان کے علماءنے حکومت سے یہ
مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہ ریشم کی آمدورفت کو
پُرامن بنانے کے لیے فوج کو یہ ذمہ داری سونپی
جائے اور جن علاقوں میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات
ہورہے ہیں وہاں فوج کی سربراہی میں سرچ آپریشن عمل
میں لایاجائے۔جنھوں نے نہتے مسافروں کے خون سے
ہولی کھیلی ہے انھیں عبرت ناک سزادی جائے اور کسی
بھی دہشت گرد ، فتنہ پرداز اور فسادی کو اس بات کی
ہرگز ہرگز اجازت نہ دی جائے کہ وہ اپنے جرم کی سزا
سے بچنے کے لیے مذہبی اختلاف کی آڑ لے اور مذہبی
اختلافات کو اپنے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کرے۔
انھوں نے مزید کہا کہ کئی دنوں سے زمینی راستہ بند
ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان میں سخت غذائی قلت
پیدا ہونے کا اندیشہ ہے لہٰذا جب تک شاہراہ ریشم
کو پُر امن نہ بنایا جائے تب تک C-130کے ذریعے
غذائی اجناس اور دیگر اشیائے ضروریہ ان علاقوں میں
پہنچائی جائے جبکہ فضائی سروس کے خصوصی پیکج بنائے
جائیں تاکہ کم آمدنی والے لوگ اپنے گھروں کو
جاسکیں جبکہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں ان علاقوں
کے لوگ روالپندی، اسلام آباد میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اس سانحے کی وجہ سے ان علاقوں میںسیر و تفریح کے
لئے آنے والے سیاح بھی پھنسے ہوئے ہیں۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر معزز رکن اسلامی نظریاتی
کونسل نے کہا کہ شمالی علاقہ جات کا شمار دنیا کے
خوبصورت ترین علاقوں میں ہوتا ہے ۔ سیاحت کے حوالے
سے یہ علاقہ ملکی آمدنی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
چنانچہ آئے دن کی دہشت گردی سے سیاحت کو کافی
نقصان پہنچے گا اور پاکستان کو معاشی نقصان پہنچنے
کا اندیشہ ہوگا۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ اس حوالے
سے فوری طور پر اقدامات کرے تاکہ ان علاقوں کا امن
پھر سے بحال ہوسکے اور ملک کی تعمیروترقی میں اپنا
کردار ادا کرسکے۔ مزید برآں گلگت بلتستان کی حکومت
کو بھی چاہیے ۔کہ وہ اس سلسلے میں اپنا کلیدی
کردار ادا کرے۔
|