امام خمینی ٹرسٹ کی طرف سے اجتماعی شادیاں ایک نظر میں

اجتماعی شادیوں میں اہل سنت ، اہل تشیع مسلک کے علاوہ 5عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے جوڑے بھی شامل تھے اب تک امام خمینیؒ ٹرسٹ کے زیر اہتمام 3340جوڑوں کی اجتماعی شادیاں اور 7000جوڑوں کی انفرادی شادیاں ہو چکی ہیں۔

امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام 100جوڑوں کی اجتماعی شادیاں الخدیجہ ڈگری کالج برائے خواتین ماڑی انڈس میانوالی میں اختتام پذیر ہو ئیں ، شادیوں کی اس پر وقار تقریب میں چئیر مین امام خمینی ٹرسٹ کے ساتھ قائد اہلسنت علامہ جاوید اکبر ساقی ن لیگ کے ایم این اے عبید اللہ خان شادی خیل ، سید الفت حسین شاہ، الطاف حسین شیرازی اور دیگر معززین شریک تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگ کے ایم این اے عبید اللہ خان شادی خیل نے کہا کہ امام خمینیؒ ٹرسٹ کا طرہ امتیاز ہے کہ وہ ہمیشہ سے مفلس زدہ لوگوں کی خدمت کرتا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ہمیں مسلکی اختلافات بھلا کر انسانیت کی خدمت کے لئے ایک ہونا چاہئے۔

قائد اہلسنت علامہ جاوید اکبر ساقی نے کہا کہ امام خمینیؒ ٹرسٹ زندگی کے ہر شعبہ میں انسانیت کی خدمت کر رہا ہے یہ پاکستان کا واحد ٹرسٹ ہے جہاں مسلک نہیں انسانیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ امام خمینیؒ ٹرسٹ ہمیشہ سے دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے مصروف عمل ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں کام ہو رہا ہے اجتماعی شادیوں کے شعبہ کو اب تک اگر دیکھا جائے تو 3340جوڑوں کی اجتماعی اور 7000سے زائد انفرادی اجتماعی شادیاں انجام پا چکی ہیں انہوں نے کہاکہ امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام 100غریب و نادار جوڑوں کی شادیوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔جس میں بلا تفریق مذہب و مسلک صرف حاجت مندوں کوشامل کیا گیا ہے۔امام خمینی ٹرسٹ کا یہ امتیاز ہے کہ وہ پچھلے 25 سالوں سے تمام طبقات کے لیے اپنی خدمات فراہم کررہا ہے۔اس سال اجتماعی شادیوں کا یہ دوسرا پروگرام منعقد ہور ہا ہے۔اس پروگرام میں جہاں شیعہ ،دیو بندی، بریلوی،اہلحدیث سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں وہاں مسیحی جوڑوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے وہ بھی خوشی کی اس تقریب سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔اہل خیر سے اپیل ہے کہ وہ اس سلسلے میں امام خمینی ٹرسٹ کی بھر پور معاونت کریں تاکہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت دنیا میں افراتفری کا عالم ہے،ہر طرف مسلمانوں کے لئے جنگ و جدال شروع کر دی گئی ہے اور پاکستان میں بھی یہی حال ہے تا ہم افواج پاکستان دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے آپریشن کر رہی ہے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی عطا فرمائے تمام قوم افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔

حکم ِ خداوندی اور احادیث رسول میں شادی کی اہمیت و افادیت روز روشن کی طرح عیاں ہے اور شادی کرنے کے بارے حکم بھی ہے اور فضلیتیں بھی ذکر ہوئی ہیں۔

کوئی ذی شعور انسان اِس مہذب انداز زندگی سے انکار نہیں کرسکتا لہٰذا انسانی معاشرہ اِس عمل کو انتہائی احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور شادی کرنے کے عمل کو باعزت اور بخیر خوبی نبھانے کی خواہش ہر انسان کے دِل میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

با وسائل معاشرہ تو اس سنت نبوی کو وسائل کے بل بوتے پر شرمندہ تعبیر کر لیتا ہے لیکن اِس معاشرتی جبر میں پسے ہوئے طبقات کیلئے شادی کرنا انتہائی دشوار مرحلہ ہوتا ہے ۔بالخصوص بیٹیوں والے والدین کی زندگی زہر بن کر رہ جاتی ہے اور کوئی سمت نہیں سوجھتی کہ اِس واجب عمل کو کس طرح باعزت ادا کیا جائے اور بیٹیاں والدین کی کسمپرسی کی حالت کو تکتی رہ جاتی ہیں اور اُن کے سروں میں چاندی اُتر آتی ہے ۔

اِس درد ناک لمحہ کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس اذیت ناک کیفیت سے گذرے ہوں یا پھر اُن لوگوں کو اس کی شدت کا احساس ہو سکتا ہے جن کے سینہ میں بے کس انسانیت کا درد رکھنے والا حساس دِل موجود ہو کہ ایسے والدین جن کی بیٹیوں کے رشتے طَے ہو چکے ہوں اور اُن کیلئے جہیز مہیا کرنا نا ممکن ہو تو اُن کے زندگی کے لمحات کس طرح کٹتے ہوں گے اور روزانہ کتنی مرتبہ مرتے اور جیتے ہونگے ۔

اِسی انسانی ہمدردی اور اسلامی فریضہ کو ادا کرنے کیلئے کچھ لوگ معاشرہ کیلئے کچھ کرنے کیلئے میدان میں آتے ہیں اور محروم طبقات میں خوشیاں بانٹتے ہیں مجبور لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ سجاتے ہیں اور اُن کے دلوں کو شاد کرتے ہیں۔

اِسی جذبہ ہمدردی کے تحت امام خمینی ٹرسٹ(رجسٹرڈ) نے 1995ءسے جہیز فنڈ قائم کیا جو کہ آج تک اپنی ذمہ داری بطریق احسن انجام دے رہا ہے1995ءسے اِس وقت تک تقریباً 3000جوڑوں کو شادی کے سلسلہ میں امداد نقد یا سامان کی صورت میں کی جا چکی ہے۔ اسی سلسلہ میں اجتماعی شادیوں کا سلسلہ پاکستان میں پہلی مرتبہ شروع کرنے کا اعزاز بھی امام خمینی ٹرسٹ کو ہی حاصل ہے۔چیئرمین امام خمینی ٹرسٹ جناب حضرت علامہ السید افتخار حسین نقوی النجفی کی محنت شاقہ ہی کا نتیجہ ہے

اب تک سینکڑوں اجتماعی شادیاں کروائی جا چکی ہیں ۔اجتماعی شادیوں کے یہ پروگرام ضلع میانوالی،ضلع ڈیرہ اسماعیل خان،ضلع جھنگ،ضلع بھکر،ضلع ڈیرہ غازی خان،ضلع مظفر آباد(آزاد کشمیر)، ضلع باغ(آزاد کشمیر)، پارا چنار میں کروائے جا چکے ہیں۔ سال 2011ءمیں اجتماعی شادیوں کے پروگرام سیلاب متاثرہ اضلاع، میانوالی،ڈیرہ اسماعیل خان،مظفر گڑھ اور رحیم یار خان میں منعقد کئے گئے ہیں

قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے اجتماعی شادیوں کی اجمالی ترتیب دی جارہی ہے جبکہ امام خمینی ٹرسٹ نے شادیوں کے سلسلے میں جو انفرادی مدد کی ہے اس کی تفصیل الگ ہ

٭.... 2004ءمیں پہلی مرتبہ 14جوڑو ں کی اجتماعی شادیاں کروائی گئیں۔

٭.... 2004ءمیں دوسری مرتبہ 30جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کروائی گئیں۔

٭.... 2005ءمیں 50جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کروائی گئیں۔

٭.... 2006ءمیں 110جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کروائی گئیں۔

٭.... 2007ءمیں 110جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کروائی گئیں۔

٭.... 2008میں 110جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کروائی گئیں۔

٭.... 2009ءمیں 125جوڑوں کی شادیاں کروائی گئیں۔

٭.... 2010ءمیں 100جوڑوں کو شادی کا سامان مہیا کیا گیا۔

٭.... 2011ءمیں 105جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کروائی گئی ہیں۔ 

مظفرآباد آزاد کشمیر میں اجتماعی شادیوں کی تصاویر

 مظفرآباد آزاد کشمیر میں دوسری دفعہ جو اجتماعی شادیاں ہوئیں ان کی تصاویر

 کاٹھ گڑھ سادات ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں اجتماعی شادیوں کی تصاویر 

ضلع باغ آزاد کشمیر میں اجتماعی شادیوں کی تصاویر

 مورخہ12مارچ 2011کوجامعہ امام خمینی ماڑی انڈس میں سیلاب سے متاثرہ 25جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تصاویر 

مورخہ16مارچ 2011 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں25اجتماعی شادیوں

کی تصاویررحیم یار خان میں اجتماعی شادیوںکی تصاویر

ضلع مظفر گڑھ میں سیلاب سے متاثرہ 30جوڑوں کی اجتماعی شادیوںکی تصاویر 

امام خمینی ٹرسٹ نے بلا تخصیص مذہب و فرقہ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ضرورت مند افراد کی اجتماعی شادیاں کی ہیںان فلاحی کاموں میں غیر مذاہب لوگوں کو بھی شامل کیا گیاہے اجتماعی شادیوں میں جن عیسائی جوڑوں کو شامل کیاگیا ہے ان کی تصاویر آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

 کشمیر میں اجتماعی شاد یوں کے سلسلہ میں علامہ سید افتخار حسین نقوی النجفی کا

ہفت روزہ اخبار ایوان صداقت کے نمائندے کو انٹر ویو 

انٹرویو۔ سید مشبر علی کاظمی

نمائندہ : علامہ صاحب آپ کے فلاحی کاموں کی ایک طویل لسٹ ہے آپ کی اجتماعی شادیوں کی سکیم کیا ہے اس بارے میںآپ وضاحت فرمائیں۔

علامہ صاحب: اجتماعی شادیوں سے ہماری مراد یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے نہیں کر سکتے اور ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی بچیوں کے لیے جہیز مہیا کریں اور اس طرح وہ شادی کرسکیں اوراسی طرح لڑکے والے اس قابل نہیں ہوتے کہ ازخود کچھ انتظام کرسکیں ۔ تو ہم ایسے گھرانوں کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں ۔رابطہ کا طریقہ بھی یہ ہے کہ ان کی درخواستیں ہمارے پاس پہلے پہنچی ہوئی ہوتی ہیں ۔ ہمارے باقاعدہ نمائندگان ہیں جو جاکر دیکھتے ہیں کہ جن کی درخواست آئی ہے کیا وہ مستحق ہیں ، نادار ہیں اور یہ کہ وہ اپنے طورپر شادی کا انتظام نہیں کر سکتے تو پھر ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ جب بھی وسائل مہیا ہوگئے تو ہم آپ کو اطلاع کریں گے اورانہیں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے مشورے سے شادی کی تاریخ رکھیں اور اس عمل میں ہم رشتے طے نہیں کرتے ،رشتے خود والدین کرتے ہیں۔ اس بارے میں ہمیں کوئی پتا نہیں ہوتا کہ اس نے کس سے رشتہ طے کیا ہے ۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ جن کے آپس میں رشتے طے ہوچکے ہیں وہ غربت کی وجہ سے شادی نہیں کر پا رہے ہوتے ۔ توہم ان کو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں ، اہل خیر سے تعاون لے کر کہ وہ ایک جگہ اکٹھے ہوجائیں اور ان کے لیے باقاعدہ اجتماعی دعوت ولیما ہوتا ہے اور یا تو پہلے سے ان کے نکاح ہوچکے ہوتے ہیں اور ایک یا دو نکاح اجتماع میں بھی پڑھے جاتے ہیں۔ اجتماعی شادیوں سے ہماری مراد یہ ہے کہ رشتے لوگ خود طے کرتے ہیں ، غربت کی وجہ سے وہ شادی نہیں کرپا رہے ہوتے ، ہم ان سے اہل خیر سے تعاون لے کران کے لیے اکٹھا انتظا م کرتے ہیں کہ سارے جوڑے اپنے باراتی لے کر،لڑکے والے بھی اور لڑکی والے بھی، اس جگہ جوہم متعین کرتے ہیں وہ وہاں آجاتے ہیں اور پھر اجتماعی دعوت ولیما ہوتی ہے ، انہیں اسی جگہ کھانا دیا جاتا ہے اور وہیں سے ہی دلہے اپنی دلہنوں کو اپنے اپنے گھر وں میں لے جاتے ہیں اور جہیز کا پورا سامان وہان موجود ہوتا ہے وہ بھی وہ اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

نمائندہ : علامہ صاحب دنیا میں اور بھی کئی طرح کے فلاح کے کام موجود ہیں ، آپ کو خصوصاً اجتماعی شادیوں کی سوچ کیسے آئی؟کہ اجتماعی شادیاں ہونی چاہیے ؟

علامہ صاحب : میرا اپناذاتی تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور مجھے پتا ہے کہ غربت کیا ہوتی ہے اور میں نے اپنی زندگی انتہائی پسماندہ دیہات میں گزاری ہے اور میں نے دیہات کے لوگوں کی پریشانیاں اور ان کے گھروں کا فقر اور فاقا ءخود دیکھا ہے ۔جب میں کسی پوزیشن میں پہنچا اور میرا کوئی عنوان معاشرے میں بن گیااور لوگ میری بات کو ماننے لگے اور میرے کہنے پر لوگ پیسہ خرچ کرنے پر آمادہ ہوگئے ، تو میں نے سوچا کہ جو لوگ غریب ہیں ان کے لئے کچھ کام کیا جائے ، اسلام میں بھی اور عمومی طورپرسب مکاتب میں یہ بات طے ہے کہ انسانیت کا جو پہلا یونٹ ہے وہ شوہر اور بیوی سے تشکیل پاتا ہے ۔ انسانی نسل کی بقاءجو ہے رشتہ ازدواج سے منسلک ہے اور پھر اسلام نے تو اس کو اس قدر اہم قرار دیا ہے کہ جب تک انسان رشتہ ازدواج سے منسلک نہیں ہوتااور اپنے جیون ساتھی کا انتخاب نہیں کرلیتا ، اس وقت تک انسان کا ایمان ہی کامل نہیں ہوتا ۔ امیرالمومنین علیہ السلام سے حدیث ہے کہ جب انسان رشتہ ازدواج میں منسلک ہوجاتا ہے اور اپنے لیے جیون ساتھی کا انتخاب کر لیتا ہے ۔ شریکِ حیات اپنے لیے بنا لیتا ہے اور لڑکی اپنے لیے شریکِ حیات کو انتخاب کرلیتی ہے تو اس کے بعد ا س کے ایمان کے دو حصے محفوظ ہوجاتے ہیں اور ایک حصہ جو ہے اس کے لیے اسے فکر کرنی چاہیے اور پھر جب شادی کرلیتا ہے تو پھر اس عمل کی وجہ سے اس کی عبادت کا ثواب بھی کئی گناہ زیادہ ہوجاتاہے ، جب کہ غیر شادی شدہ جو عبادت کر تا ہے خصوصی عبادات جو ہیں جیسے نماز پڑھنا ،روزہ رکھنا ،اس قسم کی یعنی جن عبادات کا تعلق انسان کی ذات سے ہے اوررب سے ان کا تعلق ہے، جن کو ہم خصوصی عبادات کہتے ہیں ، جو بغیر تقرب الٰہی کی نیت سے انجام نہیں دی جاسکتیں، تو ان عبادات کا ثواب رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے کئی گناہ زیادہ ہوجاتاہے ، ہم نے دیہاتوںمیں دیکھا کہ لوگ غربت کی وجہ سے اپنی بچیوں کی شادیاں نہیں کرپاتے ۔ لڑکے جوان ہوجاتے ہیں وہ بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں ، کیونکہ یہ انسان میں جو جنسی خواہش ہے یہ ایک حِس ہے جو فطری ہے اور فطرت کو ذبح نہیں کیا جا سکتا ہے ، جب بھی اس کا جو جائز طریقہ ہے اس کے سامنے رکاوٹ کھڑی کریں گے تو وہ ناجائز طریقوںسے اپنی جنسی حِس کو پورا کرے گا اور اس سے ہم جنس بازی کی جو بیماری ہے وہ بھی اسی حالت سے شروع ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرہ میں بگاڑآتا ہے ایک دوسرے کی عزتیں محفوظ نہیں رہتیں اور معاشرہ میں تباہیاں اسی سے رونما ہیں ، فساد پھیلتا ہے اس ناموس کے حوالے سے او ر اسے والدین بھی بڑے غذب میں آجاتے ہیں اور سخت قسم کے فیصلے کر دیے جاتے ہیں ،بلکہ بعض اوقات تو ایسی لڑکیوں کو مار دیا جاتا ہے جو غلط راہ پر چل پڑی ہوتی ہیں ۔ لڑکوں کا معاشرے میں مقام گر جاتاہے وہ بے راہ رو ہو جاتے ہیں احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور جرائم کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں ۔تو ان حالات کو دیکھ کر ہم نے سوچا کہ سب سے جو عمل بڑی عبادت ہے اورجو سب سے بڑی خدمت خلق ہے وہ یہ ہے کہ دو انسانوںکے درمیان رشتہ کرانے میں جو رکاوٹ ہے ہم اس رکاوٹ کودور کریں ا ور اس اقدام کے نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ ایک لڑکا اور ایک لڑکی ،ان کا بروقت رشتہ ہوجاتا ہے اور دو گھروں کا تعلق جو اس باہمی رشتہ سے بن جاتا ہے ایک تو خاندانوں کے روابط آپس میں بڑھ جاتے ہیں دوسرا یہ ہے کہ انسانیت کا جو بنیادی یونٹ ہے ایک نیا یونٹ تشکیل پاجاتا ہے جس سے اگلی نسل بنتی ہے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ اس میں ہم ایک جوڑے کے لیے مدد کررہے ہوتے ہیں اور ایک شادی کے انتظام میں ہم ایک تعاون کرتے ہیں تو وہ جو عبادت کر یں گے ظاہر ہے جنہوں نے یہ انتظام کیا ہے ، یہ وسائل فراہم کیے ہیںان کواس کا ثواب ملے گا ، ان کی جو اولاد پیدا ہوگی پھر وہ اولاد جب نیک عمل کرے گی تو ان کی نیکیوںکا جو ثواب ہے وہ بھی ان لوگوں کوخود ملے گا جنہوں نے اس کام کے لیے وسائل فراہم کیے ہیں ۔ اس چیز کو دیکھتے ہوئے ہم نے اسے اہمیت دی۔

میں اپنے تمام رفاھی کاموںمیں اس کام کو سب سے زیادہ ترجیح دیتا ہوں اور میں اہل خیر سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ بھی اس کا رخیر کو سبھ کاموں پر مقدم جانیں گے ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جن کے پاس پیسے ہیں جو مالدار ہیں وہ اپنی بچیوں کے لیے لا کھوں روپے کا جہیز دیتے ہیں ، ٹرکوں کے ٹرک دولہے کے گھر جارہے ہوتے ہیں ، توا ن میں سے تھوڑا سا سامان اپنی بیٹیوں کی خوشیوں کے لیے، ان غریبوں کی بیٹیوں کے لیے دے دیں گے تو ان کی بیٹیاں بھی خوش وخرم رہیں گی اور ان کو مالی پریشانی بھی نہیں ہوگی ، خدا بھی راضی ہوگا اور اس طرح ان کے مال کی زکوٰة بھی نکل جائے گی ۔

نمائندہ : اجتماعی شادیوں کے سلسلے میں فنڈ کے حصول کا کیا طریقہ کار ہے جب کہ یہ ایک بہت بڑی سکیم ہے جو کہ انتہائی پسماندہ علاقوںمیں کروائی جاتی ہیں تو اس میں آپ کا کیا طریقہ کار ہے ، تاکہ ان احباب کو بھی پتا چلے جواس میں حصہ لینا چاہیں ۔

علامہ صاحب : دیکھیں اس کے لیے سب سے اہم تو یہ ہے کہ جب میں خود جا کہ لوگوں سے ملتا ہوں ، تاجروں سے، اہل خیر سے تو ان کو کہتا ہوں کہ غریبوں کی شادیوں کی درخواستیں ہمارے پاس آئی ہوئی ہیں ، آپ مہربانی کرکے ہمارے ساتھ تعاون کریں تاکہ ہم اس سلسلے میں ان کی درخواستوں کا جواب دے سکیں ،اسی طرح انہیں اس عمل کا ثواب بیان کر تا ہوں اور انہیں اس تعاون دینے پر آمادہ کرتا ہوں ،دوسرا طریقہ ہماری ویب سائٹ ہے ، ویب سائٹ میں بھی ہم نے اپیل ڈالی ہوئی ہے اور ٹیلی فون کے ذریعے بھی لوگوں کو بتا تے ہیں اور ایک ذریعہ میڈیاکا ذریعہ ہے کہ مثلاً ہم نے پہلا پروگرام جب غریبوں کی شادیوں کا کرتے ہیں تو اس میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ ٹی وی چینل آجائیں ، اخبارات والے آجائیں اور پھر ان کے ذریعے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا والوں کی منت کرتے ہیں ان کو درخواست کرتے ہیں کہ وہ بھی اس ثواب میں شریک ہوجائیں، اس طرح کہ وہ ہماری آواز کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا ئیں اور بہت سارے ہماری اس درخواست کو پذیر ائی بخشتے ہیں اور ان کے توسل سے بھی ہم اپیل کرتے ہیں کہ جو بھی اہل خیر ہیں اس بہت بڑے ثواب کے کام میں اوربہت بڑی خدمت خلق کا یہ کا م ہے اس میں حصہ لیں اور اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہمارا جو آن لائن اکاو ¿نٹ ہے ، تو اس میں براہ راست پیسے بھیجے جا سکتے ہیں اور کپڑوں کی شکل میں بھی مدد کرسکتے ہیں ، جہیز کا پورا سامان لے کر بھی مدد کرسکتے ہیں ، ہم جو سامان دیتے ہیں ان میںسے کسی ایک ایٹم کو بھی خود خریدکر دے سکتے ہیں یا پور ا سامان لے کر دے دیں ۔ ہمارا یہ اصرارنہیں ہوتا کہ ہمیں پیسے دیں اور سامان ہم خود خرید کریں، ہم توفقط یہ بتا تے ہیں کہ ہم نے غریبوں کے بچیوں کی شادی کے لیے انتظام کرناہے ان کے لیے آپ ہمیں نقد مدد کریں یاخود وسائل خرید کر کے دے دیں تاکہ ہم ان کے گھروں میں پہنچادیں اور پھر وہ بھی دو طرح کی مدد ہوتی ہے۔

ایک مدد تو یہ ہے کہ اجتماعی پروگرام بنایاجاتا ہے ، اجتماعی پروگرام اس لے بنایاجاتا ہے ایک تو ان غرباءکو شخصیت دینے کے لیے کیونکہ جب ہم اجتماعی شادیاں کراتے ہیں تو اس میں ہم بڑے بڑے لوگوں کو بلاتے ہیں ، جس غریب کی شادی پر علاقے کا نمبر دار آنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہم اس غریب کی شادی پر وزیروں کو ، بڑے بڑے افسروں کو، بڑے بڑے لوگوں کو لے آتے ہیں ۔ اس سے وہ جو غریب دولہا اور دلہن ہوتے ہیں ان کا حوصلہ بڑھتا ہے اور ان کی شادی بڑی باوقار ہوجاتی ہے ، کیونکہ غریب نہ تو اپنے گھر پر اتنا انتظا م کرسکتا ہے ، پھر غریب کے گھر تو کوئی آنے کے لیے تیاربھی نہیں ہوتا۔ ہم اجتماعی کٹھ اس لیے کرتے ہیں تاکہ غریب کو شخصیت دیں اور ان کا دل بڑھائیںاورغریب گھرانے کا دولہا بھی فخر سے کہہ سکے کہ دیکھے میری تصویر فلاںوزیر کے ساتھ ہے ، فلاںعالم دین کے ساتھ ہے ، فلاں افسر کے ساتھ ہے ، وہ اس کو اپنے پاس ایک اعزاز کے طور پر رکھتا ہے ان کی اس طرح عزت افزائی ہوتی ہے ایسی عزت جو بڑے بڑے زمینداروں کے بیٹوں کو بھی آسانی سے نہیں ملتی ،مالدار لوگوں کو بھی آسانی سے نہیں ملتی ۔

دوسرا پہلو اجتماعی شادیوں میں یہ ہوتا ہے کہ جب ہم اجتماعی شادیاں کراتے ہیں تووہ شادیاں میڈ یا پر آتی ہیں وہ لوگ دیکھتے ہیں اجتماعی شادیوں میں ہم خود بھی اہل خیرکو دعوت دے رہے ہوتے ہیں وہ جب یہ سلسلہ دیکھتے ہیں توا ن میں شوق بڑھتا ہے کہ فلاں افراد نے جن کے ہم نام بتاتے ہیں جنہوں نے اجتماعی شادیوںمیں ہماری مدد کی ہوتی ہے ۔ تو یہ دیکھ کہ اور لوگوں میں جوش وجذبہ پیدا ہوتاہے اور وہ بھی اس قسم کی مدد کے لیے تیار ہوجاتے ہیں اس طرح ایک راہ کھلتی ہے کہ چند اور گھرانوں کی مدد کرنے میں ہم مو ¿فق ہوجاتے ہیں ۔ 

نمائندہ : علامہ صاحب ظاہر ہے آپ کا یہ بہت بڑ ا کام ہے اس کی پوری تفصیل بتانی بھی بہت مشکل ہوگی لیکن پھر بھی میں چاہوں گا کہ اب تک کہاں کہاں اور کتنی شادیاں کرواچکے ہیں ؟ اس کے بارے میں ہمیں بتائیں تو ہمیں خوشی ہوگی ۔

علامہ صاحب : دیکھے یہ شادیوں کا جو سلسلہ ہے دو طرح کا ہے ایک سلسلہ تو یہ ہے کہ ہم کچھ مدد کردیتے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں میں شادی کا انتظام کرتے ہیں وہ مدد کا سلسلہ اس وقت سے جاری ہے ، جب سے ہمارا ادارہ بنا ہے ۔۲۸۹۱ءسے جامعہ امام خمینیؒ ماڑی انڈ س میں ہم نے شروع کیا اور اپریل ۳۸۹۱ ءسے باقاعدہ وہاں پر تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا اور میں یہ کہہ سکتاہوں کہ ۴۸۹۱ ءمیںہم اس قابل تھے کہ جہاں ہم دینی مدرسے کی ضروریات پوری کررہے ہیں تو وہاں ہمارے پاس اگر کوئی غریب ،مسکین آجاتا اور ہم سے مدد مانگتا تو ہم اس کے ساتھ تعاون بھی کرتے تھے ، یوںمیں کہہ سکتا ہوں کہ دسمبر ۴۸۹۱ ءسے لے کر اب جنوری ۹۰۰۲ءتک اس پور ے عرصے میں میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جہاں میں دینی تعلیم کے لیے لوگوں سے وسائل لیتا ہوں اور مدرسے کے عنوان سے یا میر ے اوپر اعتماد کرکے، خمس ، زکوٰة ، عطیات اور دیگر عناوین کے ساتھ مثلاً سلامتی امام زمانہ ؑ ، امام ضامن ، عمومی صدقات ،خصوصی صدقات ، زکوٰة فطرہ ، قربانی کی کھالیں مختلف عناوین سے جو رقومات و پیسے میرے پاس آتے ہیںتو میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ اس رقم میں سے جہاں پر میں تعلیم پراس آمد کا ایک حصہ خرچ کررہا ہوں تو وہاں پر ایک بہت بڑا حصہ جو ہے ، علاقے کے ، فقراءہیں ، جومساکین ہیں ، جو یتامیٰ ہیں ، جو بیوگان ہیں ، ان کے لیے خرچ کروں اور مدد کاجو طریقہ میر ا رہا ہے اور اب تک بھی جاری ہے مثلاً کبھی کسی کو کپڑے لے کر دئیے ، کبھی کسی کو سلائی مشین لے کر دے دی ، کبھی کسی کی تعلیمی ضروریات پوری کردیں،ان کو کاپی کتابیں لے کردیں ۔ پہلے تو محدود سلسلہ تھا ، انہی سلسلوں میں ہمیشہ ایک سلسلہ یہ بھی موجود رہا کہ جو بھی غریب اپنی بچیوں کی شادی کرنا چاہتے تھے وہ ہمارے پاس آتے تھے کہ مولانا صاحب ہم اپنی بچی کی شادی کررہے ہیں ، ہمارے پاس بچی کو جہیز میں دینے کے لیے کپڑے نہیں ہیں ، ہم ان کو کپڑے خرید کر کے دیتے تھے ، یا کہتے تھے کہ فلاں سامان نہیں ہے ہمیں کچھ سامان لے دیں تو ہم انہیںسامان لے دیئے ، کسی کو بسترے لے دیا کسی کو صندوق لے دیا ،پلنگ لے دیا یعنی کبھی پانچ ہزار کا سامان ،کبھی دس ہزار کا سامان کبھی بیس ہزار کا سامان یعنی جنتی ہمارے پاس گنجائش ہوتی تھی اتنی مدد کر دیتے تھے ، بلکہ کچھ اہل خیر کو یہ کہتے کہ وہ خود ان کا کام کردیں ۔ بعض دفعہ مثلاً ایسے افراد بھی آتے تھے کہ مولانا صاحب اور توسب کچھ ہمارے پاس ہے لیکن ہمارے پا س جو باراتی آرہے ہیںان کو کھلانے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے تو ہم مدرسے سے آٹا،گھی جو طلباءکے لیے ہمارے پاس موجود ہوتا ہے وہ ہم ان کے گھر بھیج دیتے تھے اور وہ اسی سے باراتیوں کی پذیرائی کرتے تھے ، ہم اس کواندازکو کہتے ہیں ” انفرادی امدادشادی بیاہ کے لیے“ یہ سلسلہ ۴۸۹۱ءسے شروع ہوا اور یہ مسلسل اب تک جاری ہے یعنی ہر سال میں نو ماہ سلسلہ جاری رہتا ہے ، یعنی محرم ، صفر میں نہیں ہوتا اور ماہ رمضان میں بھی نہیں ہوتا ۔باقی جتنے مہینے ہیں ان میں یہ سلسلہ جاری رہتاہے ۔ 

ضلع میانوالی میں اور پھر ضلع میانوالی کے اطراف میں جتنے جو اضلاع ہیں ، سرگودھا ڈویژن کے مثلاً بھکر ہے ،خوشاب ہے پھر اس سے آگے چلے جاو ¿ مثلاً ڈیر ہ غازی خان ڈویژن ہے ، ملتان ڈویژ ن کی بعض جگہیں ، جھنگ ، آزاد کشمیر ، پارہ چنار ، ڈیرہ اسماعیل خان بہر حال جو زیادہ محروم علاقے ہیں ، البتہ تدریجاً یہ سلسلہ بڑھتا گیا ، پہلے فقط میانوالی تک تھا، بعدمیں اس میں وسعت آتی گئی تو میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ یوں سمجھ لیں ۳۹۹۱ ءسے اس طرف دیکھیں تو اوسط ہر ماہ میں ہم نے ۰۲ افراد کی مدد کی ہوگی اور یہ مدد پانچ ہزار روپے سے لے کر بیس ہزار تک ہوتی رہی ہے ، البتہ تدریجاً یہ امدادبڑھتی رہی ہے ،پہلے ہانچ ہزار سے لیکر دس ہزار تک تھی پھر د س سے پندرہ ہزار تک اور یہ اب یہ رقم بیس ہزار تک ہے البتہ یہ نقدی کی صورت میں تعاون نہیں کیا جاتا بلکہ ہم اتنے پیسوں کا سامان لے کرانہیں دیتے رہے ہیںاور شادی کاانتظام لوگ خود اپنے گھروں میں کرتے تھے کوئی اجتماعی شادیوںوالاسلسلہ بالکل نہیں تھا یعنی ۳۰۰۲ءتک یہ سلسلہ بالکل نہیں تھا ، یہ انفرادی مدد تھی اوسط مدد جو ہے وہ ۰۲ افراد کی مددہر ماہ کررہے ہیں اور یہ مدد بھی ہم ۰۹ فیصد لڑکی والوں کی کرتے تھے ، لڑکے والوں کی مدد ۰۱فیصد کرتے تھے اور اب بھی یہ اسی طرح جاری ہے اس میں بھی لڑکی والوں کی مدد زیادہ ہورہی ہوتی ہے ، جیسے اجتماعی شادیوں کا سلسلہ ہے لڑکوں والوں کی مدد ہوتی ہے،لیکن لڑکی والوں کی بہ نسبت کم مدد ہوتی ہے مثلاً دولہوں کی طرف سے دعوت ولیمہ کا انتظام ہم کررہے ہوتے ہیں ان کا خرچہ نہیں ہورہا ہوتا ، یا دولہے کو دو جوڑے کپڑے دیے جاتے ہیں او ر جوتے وغیرہ بھی جو دولہے کے لیے مناسب ہیں وہ دیے جاتے ہیں ،باقی ساری مدد جو ہے وہ لڑکی والوں کی ہوتی ہے۔

ہمارے پاکستان میں ایسا ہے کہ لڑکی والوں کے لیے شادی میں زیادہ پریشانی ہوتی ہے با نسبت لڑکے والو ں کے ۔پڑھے لکھے گھرانوں میں یہ ہی رائج ہوگیا ہے کہ لڑکے والے مطالبہ کرتے ہیں کہ لڑکی اپنے ساتھ کیا لائے گی ،اگر چہ اسلام میںیہ سلسلہ نہیں ہے ، اسلام تو کہتا ہے کہ لڑکا لڑکی کو جہیز دے ،لڑکے پر لڑکی کا حق مہر ہے ، امیر المومنین ؑ کو حضور پاک نے یہ فرمایا تھا کہ تمہارے پاس کیا ہے ، تو مولا علی ؑ نے عرض کیا : کہ میرے پاس زِرہ ہے ،مشکیزہ ہے ، اونٹ ہے ، تلوار ہے ،کافی چیزیں بتائیں تو حضور نے فرمایاکہ زِرہ بیج دیں آپ پانچ سو درہم لے آئے ۔ تو سارا سامان جو خریدا گیا بی بی زہراءسلام اللہ علیھا کے جہیز کا تو وہ اس پیسے سے خریدا گیا جو مولا علی ؑنے دیاتھا،یعنی اسلام میں یہ قانون ہے کہ لڑکا، لڑکی کے لیے جہیز کا سامان لے کر دے ، ناکہ لڑ کی اپنے لیے اپنا سامان خود لے ،لیکن ہمارے ہاں یہ اُلٹ ہو گیا ہے ، ہمارے ہاں جو لڑکے ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کتنا سامان لائے گی ، بہر حال اجتماعی شادیوں میں ایک حوالے سے لڑکے کا کام ہم کررہے ہوتے ہیں اگر شرعی حوالے سے دیکھیں تو اس کی ذمہ داری بنتی ہے اور اگر رواج کو دیکھیں تو یہاں پر یہ ہے کہ لڑکی سامان لائے ، تولڑکی والوں کی یہ مد د ہورہی ہوتی ہے ، تو انفرادی امدادیں جوہم دیتے تھے ، ان کا سلسلہ ۳۰۰۲ ءتک چلتا رہا ، ۸۹۹۱ ءسے یہ امداد اور بڑھ گئی ، پھر مہنگائی بڑھتی گئی اور ہمارا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا اور اس امداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا ۔ ۴۰۰۲ءسے اجتماعی شادیوں کا ایک نیا تصو رآیا ،اور ہم نے ۴۰۰۲ ءمیں دو مرتبہ میانوالی جامعہ امام خمینیؒ ماڑی انڈ س میں اجتماعی شادیاں کراوئیں،ایک دفعہ ہم نے ۴۱ شادیاں کروائیں اور دوسری مرتبہ ۵۲شادیاں کرائیں ۔ البتہ ہمارا یہ پہلا تجربہ تھا ، جب لوگوں کو ہم نے یہ تصور دیا کہ یہ دینی درسگاہ ہے اور حضرت اما م مہدی علیہ السلام کی طرف منسوب ہے اور گویا کہ یہ امام کے حوالے سے نسبتاً ان کا گھر ہے ، انہیں کے پیسوں سے یہ بناہے اور انہیں کے مقاصد کے لیے یہ مدرسہ کام کررہا ہے، تو آپ یہاں پر آئیں اور یہاں سے اپنی دولہنوں کو لے کر جائیں ،تو لوگوں نے اس بات کو پسند کیا اور اس کوا پنے لیے عار نہیں سمجھا ، ساتھ ہم نے غرباءکو یہ تاثر دیا کہ آپ کی اس میں اہانت نہیں ہے ، اس میں آپ کی شان ہے کہ آپ کی بارات میں اتنے بڑے بڑے لوگ آرہے ہیں ۔ ویسے بھی جب لوگ شادیاں کرتے ہیں تو آج کل انہیں شادی ہال میں لے جاتے ہیں ، تو یہ بھی ایک طرح کا اپنے لیے شادی ہال سمجھیں ،یہ ایک مقدس جگہ ہے جہاں آپ جا رہے ہیں ، تو اس کو لوگوں نے بڑا سراہا ۔ ۴۰۰۲ ءسے مسلسل یہ سلسلہ جاری ہے اور ۵۰۰۲ ءمیں ہم نے میانوالی ، جھنگ ، اڈہ شیخن ،ڈیرہ غازی خان تونسہ شریف، بھکر ، ڈیرہ اسماعیل خان میں کاٹ گڑھ، اسی طرح یہ سلسلہ آگے بڑھا ۔ جب۵۰۰۲ ءمیں زلزلے کے بعد آزاد کشمیر میں گئے ، زلزے کے فوراً بعد ہم نے ۴اجتماعی شادیوں کا پر وگرام ضلع مظفر آبادمیں کیا اور ۶۱ اجتماعی شادیاں ضلع باغ آزاد کشمیر میں کرائیں۔ پارہ چنار میں ہم نے اجتماعی شادیاں کرائیں ۔ ایک دفعہ وہاں پر اجتماعی پر وگرام کیا اور پھر وہاں کے حالات کی وجہ سے ہم اجتماعی شادیاں تو نہیں کراسکے لیکن جو انفرادی شادیاں ہوئی ہیں ان انفرادی شادیوں میں ہم نے پوری مدد دی ہے جو اجتماعی شادی میں سامان کی شکل میں ہوتی ہے ۔خاص کر جب پارہ چنار میں جنگ کی حالت رہی تو جنگ کے دوران بھی اورپچھلے ۲۲ ماہ پارہ چنار کا جومحاصرہ رہا اور ناصبیوں اور اسلام دشمن قوتیں اور پاکستان دشمن عناصر جو ان پر چڑھائی کیے ہوئے تھے توا س وقت بھی لوگ چاہ رہے تھے کہ ان کی بچیوں کی جلدی جلدی شادیاں ہوں تو اس سلسلے میںہمارے ٹرسٹ کی طرف سے وہاں تعاون شادیوں کے حوالے سے جاتا رہا اور اس کے بعد مسلسل یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ اب تک ہم ۰۰۰۱ سے زیادہ اجتماعی شادیاں کراچکے ہیںیہ ایک مسلسل عمل ہے جو جاری ہے۔

ایک بات یہ ذہن میں رہے کہ محروم علاقے مثلاً ڈیرہ غازی خان کا علاقہ تونسہ شریف اس کے دیہات بہت ہی محروم اور پسماندہ ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان کاعلاقہ تحصیل پہاڑ پور کے ساتھ کاٹ گڑھ سادات ہے، بہت ہی محروم طبقہ ہے ۔ آپ جھنگ چلے جائیں وہاں بڑے بڑے وڈیرے بھی ہیں جاگیر دار بھی لیکن اڈہ شیخن شاہ جیونہ روڈ پر جو ایک پٹی ہے جاگیر داروں کے مزارعین کی پٹی ہے ۔ مزارعین زیادہ ہیں ، وہاں غرباء،مساکین زیادہ ہیں وہاں پرہم نے پروگرام کیے ۔ 

اسی طرح آزاد کشمیر ضلع باغ میں اور مظفر آباد میں پر وگرام ہوتے رہے ۔ میانوالی میں یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے ۔ بھکر میں اسی طرح پروگرام کیے ۔ تو یہ اس سال ہمارا پہلا پروگرام ضلع مظفر آباد آزاد کشمیر میں ہور ہا ہے ۔انشاءاللہ تعالیٰ کی توفیق شامل رہی تو اور جگہوں پر بھی اس سال پرو گرام کئے جائیں گے۔

نمائندہ : علامہ صاحب پاکستان میں مختلفNGOs ہیں وہ بھی اجتماعی شادیاں کروا رہے ہیں اگر چہ کہ ان کا اتنا معیار بلند نہیں لیکن وہ کروا رہے ہیں ۔ لیکن ان پر ایک تاثر ہے اوروہ یہ ہے کہ وہ اپنے مسلک کی نمائند گی کرتے ہیں انہیں کے مسلک کے جو افراد ہوتے ہیں درخواستیں ہوتی ہیں وہ انہی کو مستفید کرتے ہیں ۔ آپ یہ بتایئے گا کہ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے اور آپ کا ٹرسٹ کیا کرتا ہے وہ اپنے مسلک کے لوگوں کے لئے کر رہا ہے یا اس کے علاوہ اہل سنت یا دیگر مذاہب کے لوگ بھی اس میں شامل ہیں ۔

علامہ صاحب : دیکھئے اس حوالے ہماری روش وہی ہے جو آ ئمہ اہل بیت ؑ کی روش تھی ، جو حضور پاک نے ہمیں تعلیم دی ہے ، حضور پاک کی سیرت یہ رہی کہ انہوں نے خدمت خلق کے حوالے سے غرباءاور مساکین کی ضروریات زندگی پورا کرنے کے حوالے سے یہ نہیں دیکھا کہ محتاج ہے ، بھوکا ہے جس کے تن پر کپڑے نہیں ہے ، پیاسا ہے تو نہ اس حوالے سے اس کو دیکھتے کہ وہ مسلمان ہو ا ہے تو اس کی مدد کریں اگر نہیں ہوا تومدد نہ کریں ۔امیرالمومنین ؑ کی پور ی زندگی دیکھ لیں کہ جب آپ لوگوں کے گھروں میں جاکر خوراک پہنچاتے ہیں اوربچیوں کی شادی کے لیے اہتمام کرتے ہیں یا امام حسن علیہ السلام غریبوں اور مسکینوں کے لیے دستر خوان لگا تے ہیں یاان کے گھروں میں پیسے پہنچاتے ہیں یاامام حسین علیہ السلام غریبوں کے گھروں میں کھانا پہنچاتے ہیں اور ان کے قرضے اتارنے میں مدد دیتے ہیں یاغلاموں کو خرید کر انہیں آزاد کررہے ہوتے ہیں تو کہیں بھی ہم نے یہ نہیں دیکھاکہ ہمارے آئمہ طاہرین ؑ نے یہ شرط لگائی ہو کہ ہم مدد اس کی کریں گے جو ہمیں امام مانے یہ کبھی شرط نہیں رکھی۔اسی طرح ہمارے جو مراجع تقلید ہیں نجف اور قم میں وہ بھی جب اس قسم کی مدد کرتے ہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس غریب کی مدد تب کروں گا اگر وہ غریب مجھے مرجع تقلید مانے یا یہ کہ وہ شیعہ مسلک پر ہو ۔ہم نے جامعہ امام خمینیؒ جو کہ ایک شیعہ مسلک کی نمائندگی کرتاہے اور ایک دینی ادارہ ہے لیکن ضلع میانوالی میں یہ واحد مثال ہے کہ ہم نے اس مدرسے کے حوالے ایک تو یہ تاثرعام کیا ہے کہ مدرسہ فقط لیتانہیں ہے اورامداد لے کر اپنے اوپر خرچ کرتا ہے، اور غریبوں ، یتیموں ، مسکینوں ، بیوگان کے لیے کچھ نہیں کرتا ہے ۔ ہم نے عملاًاگست ۲۸۹۱ ءمیں اس کی سنگ بنیاد رکھی اور اپریل ۳۸۹۱ءمیںباقاعدہ چار کمرے بنانے کے بعدتعلیم و تدریس کاسلسلہ شروع ہوا ، تو ہم نے اس وقت سے لیکر اب تک یہ باقاعدہ ریکارڈ پر بات ہے کہ جو بھی غریب ہمارے پاس آیا ہے جو بھی فقیر آیا ، مسکین آیا اس میں ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کا تعلق شیعہ مسلک سے ہے یا اہل سنت مسلک سے ہے ،بریلوی ہے ، دیوبندی ہے ، اہل حدیث ہے۔بلکہ ایسے بھی آئے جو نظریاتی طورپر ہمیں گالی دینے والے تھے، لیکن جب ان کو کوئی ضرورت ہوئی مثلاً ان کا کوئی مریض آگیا تو ہم نے ان کے مریض کے لیے بھی اسی طرح مدد دی جس طر ح ہم شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے کی مدد کرتے ہیں ، جب سے ہم نے اجتماعی شادیوں کا سلسلہ شروع کیا،تو پہلا جو ہمارا گروپ ۴۱ کا تھا اس میں بھی اور اس وقت سے لیکر اب تک ہر گروپ میں دیوبندی بھی شامل ہوتے ہیں، بریلوی جوڑے بھی شامل ہوتے ہیں ، حتیٰ کہ بھکر میں ہم نے جو پروگرام کیے اس میں عیسائی جوڑا بھی شامل تھا کیونکہ اس میں ہم نے کہا ہے کہ احتیاج شر ط ہے ، ضرورت مند ہونا شرط ہے نہ کہ مذہب شرط ہے ، جو ضرورت مند ہے ہم اس کی مدد کررہے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس کی مدد کریں کیونکہ جس طرح ہمارے پاس مریض آتے ہیں ، ہمارا ایک ہسپتال المھدی کے نام سے پکی شاہ مردان میں چل رہا ہے، جس سے ہزاروں افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں جو مریض اس ہسپتال میں آرہے ہیں ان کے آپریشن واسطے جو سہولت ہے ،آئی کلینک بھی بنا ہوا ہے ، آنکھوں کے آپریشن کی سہولت موجود ہے یعنی ایک ایسا ہسپتا ل ہے جس میں تمام تر سہولیات موجود ہے ہیں ،جنرل آپریشن کی ، زچہ بچہ کی ،ان ڈور ، اوٹ ڈور ،لیبارٹری ، ای سی جی ،الٹرا ساو ¿نڈ ، ڈینٹل یونٹ ،ساری سہولیات موجود ہیں ۔ یہاں پر ۰۸ فیصد لوگ وہ ہیں جن کا شیعہ مسلک سے کوئی تعلق نہیںہے ، اس میں عیسائی بھی آتے ہیں تو اس میں تو ہمارا مسلک بڑا واضح ہے ، ہم شیعہ اثناءعشری بارہ امامی ہیں اور وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ، لیکن غرباءکی مدد کرنے میں یا تعلیم کے میدان میں جو ہم سے تعلیم لینے آتا ہے تو اس میں ہم شرط نہیں رکھتے کہ صرف شیعہ آکر ہم سے تعلیم لیں دوسرے تعلیم نہ لیں ، تعلیم بھی سب کے لیے ہے ، کوئی بھی آئے ۔امام جعفر صادق علیہ السلام کا جو مدرسہ تھا اور اسی طرح آئمہ ؑ کے جو تعلیمی مراکز تھے تو ہر قسم کے لوگ آکر آپ سے تعلیم لیتے تھے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جتنے بھی مسالک ہیں ان کے بڑے بڑے آئمہ حدیث جوہیں اور آئمہ فقہ جو ہیں ، انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اورامام محمد باقر علیہ السلام سے اور امام علی زین العابدین علیہ السلام کے مدرسے سے علم حدیث اور تفسیر قرآن اور علم فق حاصل کیا ہے ۔اسی طرح ہمارے بارہ امام ، امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ،امام علی رضا علیہ السلام ، امام محمد تقی علیہ السلام، امام علی نقی علیہ السلام ، امام حسن عسکر ی علیہ السلام اور اس کے بعدہمارے بارھویں امام ، امام محمد مہدی علیہ السلام اور ان کے جو نائبین تھے اس کے بعد جو ہمارے مجتہدین کا سلسلہ شروع ہوا ہے ، شیخ مفید ؒ ، شیخ کلینیؒ، شیخ طوسی ؒ ان کے مدرسوں میں بھی اہل سنت آکر پڑھتے تھے اور اب بھی اس کی زندہ مثال موجود ہے کہ حوزہ علمیہ قم جو تشیع کا سب سے بڑا علمی مرکز ہے ایران میں قم یونیورسٹی ہے ، لیکن آپ وہاں دیکھیں گے کہ وہاں اہل سنت مسلک والے اپنے عقیدہ کو محفوظ رکھتے ہوئے بغیر کسی روک ٹوک کے پڑھ رہے ہیں،کوئی اس میں مشکل موجود نہیں ہے ، یعنی تعلیم دینے میں بھی ہم فقط یہ نہیں دیکھتے کہ شیعہ کو تعلیم دو اور سنی کو تعلیم نہ دو ،علم سب کے لیے ہے ۔ باقی یہ ہے کہ جب علم کی روشنی آئے گی جو جس چیز کو حق سمجھیں گا وہ اسے اختیار کرلے گا ،تو اجتماعی شادیوں کے سلسلہ میں بھی مسلک شر ط نہیں ہے، حاجت مند ہونا اور ضرورت مند ہونا شرط ہے ۔

نمائندہ : آپ نے بہت اچھی گفتگوکی ، لیکن میں مختصرا ً یہ چاہوں گا کہ آپ کے نزدیک اجتماعی شادیوں کی معاشرہ میں کیا اہمیت اور ضرورت ہے ؟

علامہ صاحب : میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا معاشرہ میںاس وقت جو سماجی روابط ہیں جو باہمی ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ہے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا ، یہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہاہے ۔ جب ہم اجتماعی شادیوں اوراس کے قسم کے پروگرام کرتے ہیں تو یہ ایک مردہ حِس جو ہے اس کو حیات مل رہی ہے اور دوبارہ ایک حِس زندہ ہوتی جارہی ہے ، اس لیے ہمیں یہ کہا گیا کہ جب آپ زکوٰ ة دیتے ہو تو اس کا اعلان کر و، کیونکہ یہ ایک فریضہ ہے کہ جب اعلان کر کے دو گے ، تو دوسرے لوگ بھی اس فریضے کی طرف متوجہ ہوں گے ، جو اجتماعی شادیوں کا سلسلہ ہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے سماجی روابط جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں تو ان روابط کو دوبارہ احیاءکرنے کا ایک ذریعہ اور وسیلہ اجتماعی شادیوں کا پروگرام ہے ، یہ پروگرام وسیع پیمانے پر ہونے چاہیے ، میں تو کہوں گا کہ جو بھی دینی مدرسہ پاکستان میں ہے اس کے منتظم کوچاہیے کہ جہاں وہ اپنے دینی مدرسے کے لیے فنڈ اکٹھے کرتے ہیں اور جو دینی تعلیم دے رہے ہیں ، جو ان کے مخصوص نصاب ہیں،جو مدارس میں بڑھا یا جارہا ہے ، وہاں کے مدرسین کی تنخواہیں ، طلباءکے طعام کا خرچہ ، رہائش وغیرہ کا خرچہ کرتے ہیں لو گ ان پر اعتماد کرتے ہیں ،تو ہر مدرسے کے مہتمم کو چاہیے کہ وہ سال میں کم از کم غریبوں اور مسکینوں کے لیے اجتماعی شادیوں کا اہتمام بھی کرے ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر ضلع میں ہر دینی مدرسہ میں اگریہ کام شروع کردیں تو شاہد ہی کوئی غریب گھر ایسا بچے کہ جو اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے نہ کر سکے اور بالخصوص میں اپنے شیعہ مسلک کے دینی مدارس اور علماءسے اور بالخصوص جو بڑے شہروں میں بڑے بڑے دینی مدارس اور حوزہ ھای علمیہ کے سربراہان ہیں ان سے خصوصی میری یہ اپیل ہے کہ وہ اس سلسلہ کو اپنی زیر نگرانی شروع کریں ، کیونکہ اس وقت معاشرہ میں بے روز گاری ہے ، غربت عروج پر ہے اور لوگ پریشان حال ہیں ان کی پریشانیاں دور کرنے کے لیے علماءکرام اپنا کردار ادا کریں ،میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہمارے سارے بزرگ علماءاس کام کو شروع کردیں تو ایسے اہل خیر موجود ہیں جوان علماءکرام پر اعتماد کرتے ہیں اور ان کی بات کو وزن دیتے ہیں اور ہمارے آئمہ اہل بیت ؑ کی بھی یہی سیرت رہی کیونکہ اس سلسلہ میں ہم اپنے لیے تومانگتے نہیں ہیں اور جب ہم غریبوں کے لیے اہل خیر سے کہیں گے تو جہاں ہم اپنے مدرسے کے لیے مانگ رہے ہیں اور مدرسے کے امور چلانے کے لیے مانگ رہے ہیں مدرسین کی تنخواہوں کے لیے لوگوں سے پیسے مانگ رہے ہیں ، طلباءکی غذا ، کاپیوں اور کتابوں کے لیے پیسے مانگ رہے ہیں ، مدرسے کی بلڈنگ کے لیے پیسے مانگ رہے ہیں ، وہاں جب ہم اہل خیر سے یہ کہیں گے کہ جہاں آپ اپنی بیٹی کے لیے لاکھوں روپے کا جہیز دے رہے ہو ، اسی میں سے کچھ صدقہ نکال کر ، اسی میں سے ایک مقدار علیحدہ کر کے ، غریب افراد جو اپنی بچیوں کے ہاتھ پیلے نہیں کر سکتے ان کو دے دو تو اس سے آپ کی سلامتی بھی باقی رہے گی اور آپ کے رزق میں بھی برکت پڑے گی،تومیں سمجھتا ہوں کہ یقینا اس کے بہت اچھے اثرات ہوں گے اور اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوگا ،میں ایک کمزور ساانسان ہوں اور وہ بھی بڑے شہروں سے دور ہمارا مدرسہ ایک پسماندہ ضلع میانوالی کا گاﺅں ماڑی انڈس جو پسماندہ ترین گاو ¿ں ہے ضلع میانوالی کا اور ضلع میانوالی بھی خود پسماندہ اضلاع سے ہے ، وہاں پر میں بیٹھا ہوں اور میری یہ نحیف سی آواز ہر جگہ پہنچ بھی نہیں پاتی ، میں تو اتنا کر رہا ہوں ، جب ہمارے بزرگ علماءجن کا بڑا نام ہے ، جن کے پاس بڑے بڑے ادارے ہیں اور اہل خیر ان کی بات کو مانتے بھی ہیں اور ان کی بات کا بڑا وزن لیتے ہیں جب وہ سب یہ کام شروع کردیں گے ، تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے معاشرہ میں پیار اور محبت کی فضا پیدا ہوگی ، علماءکا وقار بھی بڑھے گا ، اور غرباءاور مساکین کی مشکلات بھی حل ہوں گی ۔

نمائندہ : ضلع مظفر آباد آزاد کشمیر میں کس تاریخ کو آپ اجتماعی شادیاں کروارہے ہیں ؟اور ان کی تعداد کتنی ہے ؟اور آپ کی آزاد کشمیر میں خاص طورپر کیوں توجہ ہے ؟ کیا اس کی وجہ زلزلہ ہے ؟یا وہاں پر لوگ مصیبت میں ہیں ؟اس کے بارے میں بتایئے گا ۔

علامہ صاحب : اس وقت جو پروگرام ضلع مظفر آباد آزاد کشمیر میں ہورہا ہے یہ ۴۱ اپریل ۹۰۰۲ ءکو ہور ہا ہے اور وہاں کے انتظامات جو ہیں ہماری سرپرستی میں وہاںپر النور ویلفیئر ٹرسٹ ہے جن کے چیئر مین علامہ فرید عباس نقوی صاحب ہیں جو خود ہی مظفر آباد کے رہنے والے ہیں اور نقوی سادات سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ پروگرام جو ہم ۵۲ جوڑوں کی شادی کا کررہے ہیں ۔ میں اسی سال UKگیا ہوا تھا وہاں خوجہ مسلم اثناءعشری فیڈریشن والوں سے میر ی ملاقات ہوئی ، وہاں پر انہوں نے ہماری اس تجویز کوقبولیت بخشی اور ۵۲ سادات فیملی سے آزاد کشمیر کے لیے ، کیونکہ میں نے انہیں کہا بھی یہی تھا کہ وہاں سادات کو ضرورت ہے تو انہوں نے اس کو قبول کیا ، تو گویا ان کے تعاون سے یہ پہلا پروگرام ہمارے ٹرسٹ کے زیر انتظام ہورہا ہے اور آپ نے یہ سوال کیا کہ ہم ضلع مظفر آباد آزاد کشمیر میں کیوں زیادہ توجہ دیتے ہیں ؟ آپ جانتے ہیں کہ کشمیر کی جو آبادی ہے وہ پہاڑوں میں پھیلی ہوئی ہے اور پہاڑوں میں نہ تو کوئی وسیع زمینیں ہیں کہ جن کی زراعت سے ان کا گزر اوقات ہوتا ہو۔ وہاں تودرخت ہیں ، کوئی بھیڑ بکریاں پالتے ہیں ، تھوڑی تھوڑی زمینیں ہیں اور زیادہ تر لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں مزدوری کے لیے نکل آتے ہیں ، بہت کم ہیں جو بیر ون ملک چلے جاتے ہیں تو عمومی طور پر اگر دیکھا جائے تو یہ جو پہاڑوں میں بسنے والے لوگ ہیںتمام تر اپنی شرافت اور اپنی غیرت کے ہوتے ہوئے ، یہ غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں ، وہاں پر بھی ایسے ہیں جنہوں نے کافی وسیع پہاڑوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وسیع درختوں کے وہ مالک ہیں ، لیکن جب ہم عمومی طور پر دیکھتے ہیں تو وہاں غربت پنجاب کے جنوبی باقی جو جنوبی علاقوںسے کم نہیں ہے ان سے کم نہیں ہے اور پھر ضلع مظفر آباد جو بڑا وسیع ضلع ہے ، تقریباً آٹھ لاکھ آبادی ہے ، پورے کشمیر کی اتنی آبادی نہیں ہے جتنی ایک ضلع کی آبادی ہے اس کو اگر چہ اب دو ضلعوں میں تقسیم کیا ، ایک نیلم کے نام سے ضلع بنایا ہے ۔لیکن پھر بھی بہت بڑ ا ضلع ہے۔ اس میں مختلف قبائل اور مختلف قومیں رہتی ہیں اور میں تو چاہتا ہوں کہ سب کی مدد ہونی چاہیے ، لیکن اس میں ایک قبیلہ سادات کا قبیلہ ہے ، حضور پاک سے ان کی نسبت ہے اور یہ سادات ہی تھے کہ ان کے بزرگوں نے آکر یہاں پر اسلام پھیلایااور لوگوں کومسلمان کیا ، آج بھی جو غیر سادات قبائل ہیںچاہے ان کا تعلق عباسی قبائل سے ہے یادوسرے قبائل جو ہیں وہ سب سادات کا خصوصی طور پر احترام کرتے ہیں ، ان کے بزرگوں کے حوالے سے ۔تو ہم نے جب جائزہ لیا تو ہم نے دیکھاکہ سادات فیملی زیادہ غربت کا شکار ہیںاوروہ اپنی شرافت کی وجہ سے دست سوال بھی نہیں پھیلاتے ، تو اس لیے ہم نے یہ طے کیا کہ ہم سب کی مدد تو نہیں کرسکتے ، کم از کم سادات کے لیے کچھ کریں ، ظاہر ہے کہ سادات زکوٰة نہیں لے سکتے ،آزاد کشمیر حکومت سے مطالبہ بھی کیا گیا کہ جہاں اتنے وسائل ہیں جنگلا ت ہیں ،معدنیات ہیں اوراس میں خمس ہے سادات کا حق ہے کیونکہ اہل سنت کے ہاں بھی معدنیات میں خمس ہے ،جنگلا ت میں خمس ہے ،خمس خالی شیعوں کا مسلک تو ہے نہیں ۔قرآن کے دسویںپارے کی پہلی آیت ہے کہ خمس سے سادات کی مدد کی جائے کیونکہ خمس سادات ہی کے لیے رکھا گیا ہے سادات کے فقراءکے لیے ، یتامیٰ کے لیے ، مساکین کے لیے ،جو سادات کے کھا تے پیتے گھرانے ہیں ان کے لیے نہیں ،کیونکہ قرآن مجید کی آیت ہے کہ اللہ کے لیے اللہ کے رسول کے لیے اور جو اللہ کے رسول کے نمائندے ہیں ، یعنی ہمارے شیعہ مسلک کے مطابق امام وقت جو ہوتے ہیں جو اس وقت امام مہد ی علیہ السلام ہیں ان کاحصہ ہے اور اس وقت مرجع تقلید ہوتاہے وہ اس کے سپر د ہوتا ہے اللہ، رسول اور امام کا حصہ اس کے سپرد ہوتا ہے اور باقی جو یتامیٰ ، مساکین ، غرباء، فقراءاور ابن سبیل ہیں وہ سادات کے لیے آجاتاہے تو ہم نئے مظفر آباد میں بالخصوص باغ میں بھی کو شش کی جو سادات فیملیاں ہیں ان کی ضروریات کو سامنے رکھ کر اقدام کیا جائے ، اس لیے اجتماعی شادیوں میں سارے سادات جوڑے ہیں ، یہ بات نہیں کہ ہم غیر سادات کی مدد نہیں کرتے انفرادی طور پر ان کی مدد کرتے ہیں ہمارا ٹرسٹ کشمیر میں جو ذمہ دار سادات کی آبادیوں میں رہتے ہیں ان کے ساتھ بھی تعاون کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں ، ہمارا دل چاہتا ہے کہ لیکن ہم کر نہیں سکتے اور پھر جو اہل خیر ہیں ان کے پاس سادات کا حصہ پڑا ہوتا ہے جو وہ خمس نکالتے ہیں ، کشمیر کے نہیں ہے بلکہ باہر کے ہیں لیکن ان کے پاس سادات کا حصہ پڑا ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ سادات پر ہم خرچ کریں کہیں اور جگہ تو دے نہیں سکتے ۔ تو ہم نے ان کو تجویز دی کہ بجائے کسی اور چہر میں خرچ کرنے کے اب مظفر آباد میں شادیوں کے لیے خرچ کردیں تو انہوں نے ہماری اس تجویز کو قبول کیا ۔

آپ مجھ سے یہ پوچھیں گے کہ اس وقت فی شادی کیا دے رہے ہیں ،تو تقریباً اوسط خرچہ جوہمارا ہو جائے گا وہ تقریباً ساٹھ ہزار روپے ہے جس میں ہم پچاس ہزار روپے کا سامان دے رہے ہیں ، باقی اخراجات ولیمہ اور دوسری متفرق ضروریات پر ہیں ، 

یہ بھی آپ کو یہاں بتا دیں کہ زلزلے کے بعد جاکر ہم نے کشمیر میں زیادہ کام شروع کیا ،ویسے پہلے بھی ہم کام کررہے تھے،لیکن ہمارا کام بہت محدود تھا ۔ زلزلے نے کشمیریوں کی مشکلات اور بڑھا دیں اور پھر جیسے ہر قوم میں ہر قبیلے میں ایسے افراد ہوتے ہیں جو فقط اپنی فکر کرتے ہیں دوسروں کی فکر نہیں کرتے اور یہ مادیت کا دور ہے ، زلزلے کے بعد پھر اورا ستحصال ہوا شرفاءکا ، جو کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے تھے ،جو کسی NGOکے دروازے پر نہیں گئے ، کسی افسر کی خوشامدانہوں نے نہیں کی ،تو ان بے چاروں کو جو گورنمنٹ سے مدد ملنے والی تھی وہ بھی قسطوں میں اور ٹوٹ ٹوٹ کر ملی اور وہ بھی سب کو نہ مل سکی ۔ تو بہرحال اس حوالے بہت ہی تکلیف دہ حقائق ہیں،ہم نے ان حالات کو دیکھ کر وہاں سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ،ہمارا ایک چھوٹا سا ٹرسٹ ہے ، کوئی اتنا بڑ ا ٹرسٹ نہیں ہے ۔ لوگوں کے بڑے بڑے ٹرسٹ ہیں بڑی بڑی NGOsہیں ۔ان کے پاس فنڈز بھی بہت زیادہ ہیں ہماری خواہش ہوگی کہ وہ توجہ کریںاو ر خود زمینی حقائق کو جاکر دیکھیں ، واسطوں کے ذریعے کام نہ کریں ، میں اس لیے کامیاب ہوں کہ میں براہ ِراست غریبوں کے ساتھ رابطے میں ہوں اور براہِ راست یہ مدد ان تک پہنچا تا ہوں ۔ جب آپ درمیان میں واسطہ در واسطہ لائیں گے ، تو غریب تک پہنچتے پہنچتے جو چیز آپ نے دس روپے میں شروع کی ہوگی اس کے پاس ایک روپیہ جا کے پہنچے گا اور بروقت بھی نہیں پہنچے گا ۔ یہ میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے ۔ تو یہ جو بڑے بڑے ادارے ہیں بڑی بڑی NGOsہیں ، چاہے ان کا تعلق کسی مسلک سے بھی ہوان میں اچھے لوگ بھی ہیں جو کام کررہے ہیں ،زلزلے کے دوران بھی انہوں نے کیا ہے ،زلزلے کے بعد بھی کیا ہے ،غریبوں کے گھروں میں جاکر انہوں نے چیزیں دی ہیں اور بعضوں نے ان کی مدد کرنے کے لیے صفیں لگوائیں ہیں ،اور کئی کئی گھنٹے لوگ بے چارے صفوں میں کھڑے رہے اور کئی کئی دن چکر لگائے اور آخر میں انہیں پانچ سوروپے کی بھی چیز نہ ملی اور اس سے ان کی عزت نفس بھی مجروح ہوئی اور ان کی پریشانی بھی دور نہ ہوسکی،توہم یہ کہیں گے کہ ایسا طریقہ اور ایسے سلسلے سے بچا جائے اور ایسا انداز اپنایاجائے کہ مدد پہنچانے کا کام جلدی انجام پائے تا کہ جلد از جلد صحیح اور مستحق لوگوں تک مدد پہنچ سکے۔

نمائندہ : اس سلسلہ میں لوگوں سے آپ کو کیا توقعات ہیں ؟وہ کس طریقے سے آپ کی مدد کرسکتے ہیں ؟اور اگر ان شعبہ جات کے علاوہ کوئی آپ کے ٹرسٹ کے بار ے میں انفارمیشن لینا چاہے تو اس کے لیے اگر آپ کی سائٹ ہے تو سائٹ کا کیا نام ہے ؟

علامہ صاحب : میری اہل خیرسے تو یہ گذارش ہے کہ وہ ہماری ساتھ تعاون کریں تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ غریبوں کی مدد کرسکیں ، کشمیر میں ظاہر ہے یہ پہلا پروگرام کررہے ہیں اور پھر باغ والے بھی منتظر ہیں ، ابھی ہمارے پاس اور کوئی انتظا م نہیں ہے ،جبکہ ضلع باغ میں بھی اسی طرح کے مستحق سادات موجود ہیں اور جو ہم نے ۵۲ جوڑوں کی شادی کی ہے ، آپ یقین جانئے کہ درخواستیں ۵۲کی نہیں ہیں ، درخواستیں تو ہمارے پاس ۰۰۱سے بھی زیادہ ہیں اور لوگ بے چارے اسی طرح رہ جاتے ہیں اور ہمارے پاس چونکہ انتظام نہیں ہو پاتا، اس وقت مجموعی طور پر ۰۰۳ سے زائد غریب گھرانوں کی در خواستیں ہمارے پاس موجود ہیں ، ہماری اہل خیر سے اپیل ہے حکومت سے اور صاحبان اقتدار سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس شعبہ میں ہماری مدد کریں اس میں آزاد کشمیر کی حکومت سے خمس کا مسئلہ اسمبلی میں پاس کرانے کی اپیل بھی ہے ۔جس طرح زکوٰة غیر سادات کے لیے ہے ، سادات کی ضروریات پور اکرنے کے لیے خمس کا اسمبلی کے ذریعے فیصلہ کیا جائے اور بیت المال جو غریبوں کی مدد کے لیے ہے وہ بھی ایک سلسلہ ہے اس کو صحیح افرادا اور امین افراد کے ذریعے غریبوںکی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان تک پہنچانے کا اہتمام کیا جائے اور اپنے بھائیوں سے اور جوضرورت مند ہیں ، حاجت مند ہیں ان سے ہماری یہ درخواست ہے کہ صبر اور خداپر توکل اور ایمان باالغیب پر قائم رہیں اور اپنی کردار سازی پر توجہ دیں ۔اللہ تعالیٰ کریم ہے اور جب اپنے رب پر بھروسہ رکھیں گے ،تو خدا یقینا ان کے لیے ایسی جگہ سے روزی کا انتظا م پہنچائے گا جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں ہوگا۔ہمارے کاموں کو دیکھنے کے لیے ہماری ویب سائٹ دیکھیں ،ہماری ویب سائٹ ہے ۔ www.iktrust.orgجب آپ ہماری ویب سائٹ دیکھیں گے تو اس ویب سائٹ میں ذیلی ویب سائٹیں بھی موجود ہیں ، النور ویلفیئر ٹرسٹ کی ویب سائٹ موجود ہے ، ماہنامہ پیام زینب ؑ کی ویب سائٹ موجود ہے ،ال ظہور کی ، اخبار ہفت روزہ ایوان صداقت اور ہفت روزہ بیان صداقت ان سب کی ویب سائٹس موجو دہیں ۔ ویب سائٹ میں فراہمی آب کے لیے ، صحت کے لیے اپیلیں موجود ہیں ، تعلیم ،کے لئے اور فراہمی آب اور خدمت خلق، ضرورت مندوں کی ضروریات پورا کرنا ،تو اسی میں ہمارے اکاو ¿نٹ کی تفصیل بھی موجود ہے ، آپ دیکھ سکتے ہیں اور آن لائن اکاو ¿نٹ بھی موجود ہے ، ڈائریکٹ بھی آپ اس میں رقم بھیج سکتے ہیں ۔

ہماری دعا ہے کہ خداوند تبارک وتعالیٰ نے جو ہمیں یہ توفیق دی ہے ۔اپنے حبیب مصطفیٰ رسول اللہ اور ان کی آل پاک کے صدقے میں یہ توفیق ہم سے واپس نہ لے اور ہمیں مزید توفیق دے اور اس سلسلے میں جو لوگ ہمارے ساتھ تعاون کررہے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں مزید ہمت اور قوت د ے،تاکہ وہ اس سلسلہ کو اور بڑھائیں اور اسی طرح ہمارے ساتھ اپنا تعاون جاری و ساری رکھیں ۔والسلام 

نمائندہ : میں علامہ سید افتخار حسین نقوی النجفی کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنا انتہائی قیمتی وقت دے کر اچھے طریقے سے ویلفیئر کے کاموں اور اپنے ٹرسٹ اور اپنی ویب سائٹس اور اجتماعی شادیوں کے بارے میں بتایا ۔ شکریہ 

براہ راست درج ذیل اکاﺅنٹس میں مدد روانہ کر سکتے ہیں۔

Phone: 0092-459-395784, 0092-459-395862, 

Fax 0092-459-395551

Title: Imam Khomeini  Trust

Account No. 12570009955703

Branch code: 1257 

IBN: IBAN PK71 HABB0012570009955703 

Swift Code: HABBPKKA 

HABiB BANK LIMITED, KALABAGH

MIANWALI(PAKISTAN)

 Title: Syed Iftikhar Hussain Naqvi

Account No:12570005253101

Branch Code: 1257

IBN: IBAN PK41 HABB 0012570005253101

Swift code: HABBPKKA

HABiB BANK LIMITED, KALABAGH

MIanwali ( Pakistan)

 Title:  Imam Khumeini Trust

Account No: 0058148131001382

Branch Code: 0855

IBN: PK19 MUCB 0058 1481 3100 1382

 

Email:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Email:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Email:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Web site:www.iktrust.org

امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام پہلے مرحلے میں 25شادیاں

 

امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام مورخہ12مارچ 2011کو سیلاب سے متاثرہ 25جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب جامعہ امام خمینی ماڑی انڈس میں منعقد ہوئی جس میں علاقے کے معززین کے علاوہ بڑی تعداد میں متاثرین سیلاب نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے جوڑوں کا نکاح علامہ سید افتخار حسین نقوی، جبکہ اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جوڑوں کا نکاح مولانا رشید نے پڑھایا۔اس موقع پر ہر دلہن کو تقریباً 50 ہزار روپے سے زائد جہیز کے سامان کی مکمل فراہمی امام خمینی ٹرسٹ کی طرف سے کی گئی جبکہ دولہوں کو ملک مشتاق حسین اور ملک غفار حسین نے پانچ سو روپے فی کس سلامی دی اور دولہا اور دلہنوں میں تحائف تقسیم کئے گئے۔ ٹرسٹ کی طرف سے ایک اجتماعی ولیمے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ امام خمینی ٹرسٹ ہمیشہ بلاامتیاز رفاہی سرگرمیوں پر یقین رکھتا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوںنے کہا کہ ہم نے متاثرین سیلاب کےلئے تقریباً 800 سے زائد گھر تعمیر کئے ہیں جبکہ دو ٹن سے زائد ادویات اور کروڑوں روپے کی مالی امداد، اجناس، اشیائے خوردونوش، کمبل، گرم کپڑے اور دیگر اشیاءتقسیم کی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ متاثرین زلزلہ کےلئے بھی ہم بھرپور خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور رفاہ کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری رفاہی سرگرمیوں سے ہزاروں خاندانوں نے فائدہ اُٹھایا، ہم یہ سفر بدستور جاری رکھنا چاہتے ہیں تاہم مخیر حضرات سے گذارش ہے کہ وہ اپنا تعاون جاری رکھیں تاکہ امدادی سرگرمیاں جاری رہیں۔

علامہ سید افتخار حسین نقوی نے مزید بتایا کہ 2011کا یہ پہلا پروگرام ہے اسی ماہ میںسیلاب زدہ اضلاع (ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی 25، مظفر گڑھ میں بھی 25 اور رحیم یار خان میں بھی 25اجتماعی شادیاں کرائی جائیں گی اور یوں یہ 100شادیاں ہو جائیں گی۔ 

دوسرے مرحلے میں امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام مورخہ16مارچ 2011 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں25اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا گیا جس میں 25دولہوں اور25 دلہنوں کوفی کس جوڑے کے حساب سے 50ہزار روپے کا جہیز فراہم کیا گیا۔رپورٹ ۔ سید مشبر علی کاظمی

تفصیلات کے مطابق دوسرے مرحلے میں امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام مورخہ16مارچ 2011 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں25اجتماعی شادیوں کا انعقاد کیا گیا جس میں 25دولہوں اور25  دلہنوں کوفی کس جوڑے کے حساب سے50ہزار روپے کا جہیز فراہم کیا گیااوراس کے علاوہ اجتماعی ولیمے کا بھی اہتمام کیا گیا، اس تقریب میں دولہے اور دولہنوں کے علاوہ بڑی تعداد میں باراتی اور معززین بھی شامل تھے۔اس پروگرام میں جن شخصیات نے شرکت فرمائی ان میں جناب مخدوم کاظم (صوبائی وزیر مال)،جناب سید الطاف حسین شاہ (سابقہ تحصیل ناظم) ،جناب سید سلیم اختر سجادہ نشین دربار پیر سید حیدر شاہ،جناب مولانا رشید( خطیب اہلسنت )،جناب مولانا اظہر حسن (خطیب شیعہ )جناب حاجی سید اقبال حسین شا ہ نے خصوصی شرکت فرمائی جعفریہ کنسٹرکشن کمپنی کے مالک ملک کفایت حسین نے تمام دلہوں کو 500روپے سلامی دی۔جناب سکندر گیلانی (مرکزی سیکرٹری اسلامی تحریک )نے ناظم ممبر کے فرائض سر انجام دئیے اور جبکہ میزبانی کے فرائض منیجنگ ٹرسٹی جناب سید انتصار مہدی اور جناب سید مہدی شاہ نے انجام دیئے۔

چیرمین امام خمینی ٹرسٹ علامہ سید افتخار حسین نقوی نے بتایا کہ 2011کا یہ دوسرا پروگرام ہے اسی ماہ میںسیلاب زدہ اضلاع مظفر گڑھ میں 25 اور رحیم یار خان میں بھی 25اجتماعی شادیاں کرائی جائیں گی اور یوں اس سال 100شادیاں ہو جائیں گی جبکہ ہمارے پاس ہزاروں درخواستیں ایسی ہیں جو واقعی مستحق ہیں لیکن ہماے پاس وسائل کی کمی ہے انہوں نے کہاہماری انسانیت کے نام پر اپیل ہے کہ ہمارے فلاحی کاموں کو دیکھتے ہوئے ہمارے ساتھ دست تعاون بڑھائیں۔

علامہ سید افتخارحسین نقوی نے کہا کہ تمام انسانوں کی فلاح و بہبود، ان کی جان، مال، عزت و آبرو کی حفاظت اور ان کے جملہ حقوق کی حقیقی پاس داری، ہمارے پاکیزہ مذہب اسلام کا اہم ترین اور غیر معمولی شعبہ ہے_ اسلام کے دیگر تمام شعبوں کی طرح اس شعبہ کے بارے میں بھی قرآن و حدیث کی ہدایات، ارشادات اور ترغیبات نہایت واضح اور تفصیلی ہیں۔قرآن و حدیث کی بے شمار آیات مخلوق خدا کی فلاح، ہمدردی، خیر خواہی، صلہ رحمی اور تمام جائز حقوق کی ادائیگی پر مشتمل ہیں_ ہر مسلمان پر اگر وہ صاحب نصاب ہو تو زکوٰة وخمس فرض کے درجے میں ہے اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تم جتنا آسان ہو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا کرو_ 

بنیادی طور پر رفاہ عامہ، مستحق حاجت مندوں کی ضروریات کی نگرانی اور حق داروں کے حقوق کی فراہمی پر مشتمل اس فلاحی شعبے کا انتظام و انصرام ایک اسلامی ریاست کی ذمہ داری تھی اور اس سلسلے میں ماضی میں اسلامی حکومتوں نے کارہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں جن کی زندہ مثالیں تاریخ کے سینے میں محفوظ ہیں۔

ان دگرگوں حالات میں ایسے بے شمار مخلص اور صاحب دل حضرات موجود ہیں جو غریبوں اور ناداروں کے دکھوں کا مداوا اور معاشرے کو درپیش رفاہی مسائل کے چیلنج سے نمٹنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اس عظیم مشن کو آگے بڑھانے کے لیے قابل اعتماد ذرائع درکار ہوتے ہیں جن کے ذریعے ان کے سچے جذبات کی صحیح ترجمانی اور حقیقی معنوں میں ان کی تکمیل ہو سکے۔علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ ہم دی ورلڈ فیڈریشن( یو ،کے) اور محسن اینڈ فوزیہ جعفرفاﺅنڈیشن کے انتہائی مشکور ہیںجنہوں نے سیلاب متاثرین کیلئے خوشیوں کا سامان مہیا کیا۔

علامہ سید افتخا ر حسین نقوی نے مزید کہا کہ امام خمینی ٹرسٹ وطن عزیز کے طول و عرض میں معاشرے کو درپیش انہی رفاہی مسائل کے حل اور اس غیر معمولی سماجی مشن کو فروغ دینے کے خواہاں مخلص احباب کی حقیقی ترجمانی کے لیے معرض وجود میں آیا ہے_ یہ خالصتاً ایک رفاہی ادارہ ہے جو باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور شرعی اصولوں کے عین مطابق ملکی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے فلاحی خدمات عمل درآمد کو یقینی بناتا ہے، مخیر حضرات کے تمام عطیات کو انتہائی دیانت اور امانت کے ساتھ رفاہی کاموں میں خرچ کرتا ہے، پانی صحت، خوراک، لباس،اجتماعی شادیاں اور دیگر بیسیوں بنیادی ضروریات حقیقی ضرورت مندوں تک پہنچاتا ہے اور اپنے وسائل کے دائرے میں رہتے ہوئے رفاہ عامہ کے کاموں میں مصروف عمل دیگر رفاہی اداروں کی مختلف طریقوں سے معاونت کرتا ہے

انہوں نے مزید کہا کہ اپنے لیے صدقہ جاریہ اور اپنے عزیزوں و رشتے داروں کے ایصال ثواب کے لیے کارخیر میں حصہ لیجیے، مستحقین کی امداد کے لئے دست تعاون بڑھائیے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

ازدواج کی اہمیت افادیت اورفضیلت

رحیم یار خان میں25شادیوں کی تقریب سے امام خمینی ٹرسٹ(ماڑی انڈس میانوالی)کے چیئرمین علامہ سیدافتخارحسین نقوی النجفی کا خطاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

ازدواج کی اہمیت افادیت اورفضیلت

رحیم یار خان میں25شادیوں کی تقریب سے امام خمینی ٹرسٹ(ماڑی انڈس میانوالی)کے چیئرمین علامہ سیدافتخارحسین نقوی النجفی کا خطاب 

قبل اس کے کہ میں نکاح کے صیغے جاری کروں اس خطبہ اور نکاح کی اہمیت کے حوالے سے اور نئے شادی شدہ جوڑے پر جو ذمہ داری ہے اس کے حوالے سے گفتگو کروں۔ اسلام میں مرد اور عورت مل کر انسان بنتے ہیں۔مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر ناقص اور ادھورے انسان ہیں۔ اسلام میں ازدواج عبادات سے ہے اور ازدواج اور نکاح اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانی فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ایک طریقہ ہمارے لئے بتایا ہے اس طریقے سے ہٹ کر اگر کوئی قدم اٹھایا جائے گا اپنی فطری خواہش کو پورا کرنے کے لئے تو ایساشخص اللہ کے حضور مجرم ہے۔

نکاح کی اہمیت اس سے جانیے کہ یہی وہ سلسلہ ہے جس سے زمین کی رونقیں ہیں اور انسان کی نسل اس سے باقی ہے۔اس تقریب میں آناگویا کہ آپ ایک عبادتی تقریب میں آئے ہیں۔ اس کا اہم ترین پہلو وہی خطبہ نکاح ہوتا ہے اور یہ خطبہ حضورپاک کی سنت ہے۔ جب حضورپاک کا نکاح جناب سیدہ طاہرہ بی بی خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے ساتھ مکہ معظمہ میں منعقد ہوا تو آپ اپنے چچاﺅں اور خاندان کے ہمراہ دولہن کے گھر گئے اور وہاں باقاعدہ طورصیغہ نکاح سے پہلے نگہبان رسالت آپ کے سرپرست آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب ؑ کے بعد حضرت ابوطالب ؑ نے باقاعدہ خطبہ نکاح پڑھااور اس خطبہ نکاح میںانہوں نے جہاں پر اللہ کی وحدانیت کا تذکرہ کیا وہاں پر حضورپاک کے فضائل بیان کیے اور یہ اعزازتھا حضورپاک کاشرف تھاکہ جب حق مہر کی بات آئی تو جناب سیدہ خدیجتہ الکبریٰؑ نے کہا کہ اپنا حق مہر میں خود اپنے مال سے دوں گی اور چار ہزار دینار حق مہر کے طور پر خود بی بی نے ادا کیے تو کسی حاسد اور بدبخت نے کہا واہ یہ کیا ہوگیاکہ بی بی اپنا حق مہر خود دیں تو اس کے جواب میں حضرت ابوطالب ؑ نے اپنا مشہور قصیدہ پڑھاکہ آپ نے فرمایا کہ محمد جیسا پوری کائنات میں کون ہے اگر شوہر محمد جیسا ہو تو زوجہ حق مہر خود ہی دے گی۔

تو اسی دن سے حق مہر بھی ضروری ہوگیا اور اسلام کے قوانین میں ایک قانون بن گیا۔ اسی حوالے سے خطبہ پڑھا جاتا ہے جس میں ہم سب کے خالق اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد وثنا کی جاتی ہے ، ہمارامالک، رازق ،الٰہ اور رب ہم سب اسی کی بندے ہیں ہم نے اسی کی اطاعت کرنی ہے یہ سب نعمتیں اس نے ہمارے لیے بنائی ہیں۔ اور اس کے بعد حضورپاک اور آپ کی آل پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے اور اس کے بعد قرآن مجید کی بہت ساری آیات ہیں جو اس تقریب کے حوالے سے پڑھی جاتی ہیں۔

اللہ کا اپنے بندوں کو فرمان ہے کہ ”نیک مرد اپنی عورتوں سے نکاح کریں اور فقر و فاقہ کی وجہ سے مت گھبرائیں اگر تم فقیر ومحتاج ہوگے تو اس کی برکت سے تمہارا رزق بڑھ جائے گا اور اللہ ہی رزق دینے والا ہے“

بندے کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے یہ صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں زمین اللہ نے بنائی ہے اور اس میں یہ ساری صلاحیتیں اللہ نے رکھی ہیں انسان کو اللہ نے صلاحیت دی ہے کہ وہ تمام مخلوقات کو اپنے استعمال میں لا کر فائدہ اٹھائے۔ یہ سورج، چاند ،ستارے یہ سب انسان کی روزی کے لئے شب و روز کام کررہے ہیں اور انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں لیکن انسان سے یہ کہا گیا ہے کہ اے انسان تو میری معرفت حاصل کر اور میری اطاعت کر میں نے سب کچھ تیرے لیے بنایا ہے اور تجھے اپنے لیے بنایا ہے میں چاہتاہوں اپنے اختیار اور اپنے انتخاب سے میرا عبد ہوجا۔ جب تو میرا عبد ہوجائے گا تو میں تیری شان اور بڑھا دوںگا وہ بڑا کریم ہے۔ ہم بدبخت ہیں کہ ہم اس کی کریمی کا مذاق اڑاتے ہیں۔

میں ان نئے جوڑوں سے کہوں گا کہ دیکھو پیسہ کمانا تو مشکل ہے بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ پیسہ انہی کا ہے اور اس میں اللہ کا کوئی حصہ نہیں ہے کسی میں سوچ نہیں ہے کہ اس نے قبر میں جانا ہے اور قبر میں یہی مال سانپ اور بچھواور انگارے بن کر اس کی قبر میں بھر جائیں گے۔

وہ یہ نہیں جانتا کہ اس نے اپنی آل و اولاد کے لئے جو مال کمایا ہے وہ آل اولاد اسے مرنے کے بعد بھول جائے گی اور اس کے پیچھے راہ خدا میں کچھ خرچ نہیں کرے گی پھر وہ وہاں فریاد کرے گا کہ اے میری اولاد! میں تمہارے لئے کاریں اور بنگلے چھوڑ آیا ہوں لیکن تم نے میرے پیچھے کچھ نہیں دیاہے۔میں نے تو خدا کی مخالفت میں خمس اور زکوٰة نہیں دیاہے۔

اب ایک شخص وہ ہے جس نے آج کی شادیوں کا انتظام کیا ہے وہ خود تو یہاں سے ہزاروں میل دور بیٹھا ہے آپ دیکھیں کہ اس عمل سے اسے کس طرح سکون ملتاہے اور اس نے یہ خرچ خمس اور زکوٰة سے نہیں کیا بلکہ اپنے ذاتی مال سے خرچ کیاہے ۔جو لوگ خمس و زکوٰة ادا کرتے ہیں تو انہیں ہی اپنے ذاتی مال سے خرچ کرنے کا ہوش و خیال آتا ہے ۔

ہماری حالت یہ ہے کہ اگر ہم کوئی مجلس کروا لیں تو کہتے ہیں کہ یہ خمس ادا ہوگیا ہے اور نماز نہ پڑھ کر ہم اللہ تعالیٰ کی کریمی کا مذاق اڑاتے ہیں وہ بڑا کریم ہے وہ نہیں چاہتا کہ انسان جہنم میں جائیں لیکن ہم انسان بدبخت ہیں کہ اس کی ساری نعمتیں استعمال کر کے بھی اس کی ناشکری کرتے ہیں۔

خداوندکریم انسان کو جھنجھوڑتا ہے کہ اے انسان تو کچھ نہیںہے۔ ابھی آپ دیکھیں کہ جاپان جوخود کو سپر پاور کہتا تھاچند سیکنڈ کے زلزلے نے جاپان کو تباہ کر کے رکھ دیا لیکن وہ اپنے آپ کو نہیں بچا سکے۔ اسی طرح جب کشمیر میں زلزلہ آتا ہے یا پاکستان کے دیگر علاقوں میں سیلاب آتا ہے ان پکی پکی عمارتوں کو چند سیکنڈ میں تباہ و برباد کردیتاہے۔

اب آپ خود دیکھیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جی ہمارے پاس تو بچتا ہی کچھ نہیں ہے تو ہم خمس وزکوٰة کیسے دیں لیکن جب اسے ہارٹ اٹیک ہوجاتاہے، سیلاب اس کی ساری گندم بہا کر لے جاتاہے، زلزلہ سے اس کے مکانات تباہ ہوجاتے ہیں تو تب وہ اللہ کی قدرت کا کیا کرسکتاہے؟اے بدبخت انسان اگر تو اپنے واجبات ادا کرے گا تو اللہ تعالیٰ تجھے تمام تکلیفوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھے گا۔

ابھی آپ خود دیکھیں کہ جس شخص نے سو شادیوں کا سامان فراہم کیا ہے ہم نے اسے صرف اتنا کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگ پریشان حال ہیں ان کی شادیوں کا انتظام کردیں تو اس نے پچاس لاکھ روپے ہماری طرف بھیج دیئے وہ شخص نہ میرا رشتہ دار ہے اور نہ آپ کا رشتہ دار ہے بلکہ اس نے اپنے مال سے اللہ کے بندوں کے لئے مال نکالاہے۔جب ہم نے اس کو شادیوں کی تصویریں بھیجیں تو اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

تمام لوگوں کو اپنی جگہ پر سوچنا چاہیے کہ ہم اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں کم مال والا بھی اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کی مدد کر سکتا ہے اور جو مالدار لوگ ہیں وہ سوچیں کہ اپنی بیٹیوں کی شادی پر تو وہ لاکھوں روپے فقط ولیمے میں لگا دیتے ہیں اور دوسری طرف غریب لوگ اپنی بچیوں کے لئے دوجوڑے کپڑے کے بھی نہیں خرید سکتے ۔ اگر ہر شخص اپنی بیٹی کے جہیز میں سے پانچواں حصہ غریب کی بیٹی کے لئے نکال دے تو اسی آپ کے ضلع میں ہزاروں غریبوں کی شادیاں ہو سکتی ہیں۔

ہم نے پچیس جوڑوں کی شادیاں کی ہیں لیکن ہمارے پاس ہزاروں درخواستیں موجود ہیں جو بیچارے اتنے مستحق ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ جی اگلے سال ہمارے لیے انتظام کردیجئے گا میں یہاں پر موجود پریس والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس سلسلے میں ان لوگوں کی مدد کریں اور لوگوں کو بیدار کریں تاکہ میں ان غریبوں کے لئے اگلے مہینے پھر شادیوں کاانتظام کرسکوں۔

جہاں تک ہماری حکومت کا سوال ہے تو وہ اپنی مستی میں مست ہیں وہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں ان کو کسی کی فکر نہیں ہے کہ غریبوں کے ساتھ سیلاب متاثرین کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

لیکن ہمیں چاہیے کہ انسانی ہمدردی کے تحت ہم خود تھوڑا تھوڑا کر کے مثلاً کوئی شخص ایک جوڑا کپڑوں کا دے سکتا ہے، کوئی برتن دے سکتاہے، کوئی پنکھا دے سکتا ہے کوئی اور چیز دے سکتا ہے تو یہ تھوڑا تھوڑا کر کے ہم خود ہی غریبوں کی بچیوں کی شادیاں کروا سکتے ہیں۔

آپ کے اس عمل سے ایک تو معاشرتی بگاڑ ختم ہوگا برائیاں ختم ہوں گی دوسرا جب اس جوڑے کی اولاد ہوگی پھر ان کی اولاد ہوگی اور اس طرح ان کی نسل چلے گی اور ان کی ساری نسل جو عبادت کرے گی اس کا ثواب ان کی شادی میں مدد کرنے والے کوبرابر ملتارہے گا۔

میرے بزرگو! عزیزو! میری باتوں سے ناراض مت ہونا بہرحال یہ ہم سب کا حق بنتا ہے اور خاص کر یہاں پر میں چاہوں گا کہ میڈیا والے اس مسئلے کو مزید اجاگر کریں اس کو ایک خبر میں محفوظ نہ کریں بلکہ اس پر پوری سٹوری بن سکتی ہے کہ کس طرح ہم نے میانوالی سے آکر رحیم یارخان میں شادیوں کاانتظام کیاہے۔ہم نے شہاب الدین صاحب کو بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن وہ بڑے لوگ ہیں انہوں نے کہا کہ میںنے اجلاس میں جانا ہے لہٰذا یہاں نہیں آسکتا۔بہرحال ان تک ہماری آواز تو پہنچ ہی جائے گی۔اس تقریب میں کنونیئر صاحب تشریف لائے ہیں ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

میں یہاں پر فرزانہ راجہ صاحبہ کو اپیل کروں گا کہ یہ پچیس جوڑے لوگ سیلاب سے متاثرہ ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ کے مستحق بھی ہیںلہٰذا ان کو یہ سہولت مہیا کی جائے۔ اس عمل میں فائدہ انہی کا ہے کیونکہ یہ لوگ تو زندہ رہیں گے ان کو خدا نے پیدا کیا ہے تو روزی بھی ان کو خدا ہی دے گا۔میں شہاب الدین صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے ڈیرے پر ان پچیس جوڑوں کو کھانا دیں اور فرزانہ راجہ صاحبہ کو بلا کر ان کی بے نظیر انکم سپورٹ سے مدد کریں اس طرح محترمہ بے نظیر صاحبہ کی روح بھی خوش ہوگی اور انہیں ثواب بھی ملے گا۔

حضورپاک کی حدیث ہے کہ اپنے مردوں اور عورتوں کا نکاح کرو اور اس سے نسل کو بڑھاﺅ قیامت کے دن میں اس بات پر فخرکروں گا کہ میری امت سب سے زیادہ ہے آپ کی ایک اور حدیث ہے کہ جو شخص نکاح سے نفرت کرتا ہے اور اس سے فرار کرتاہے تو اس سے اسلام کی شناخت چھین لی جاتی ہے ۔

امیرالمومنین حضرت علی ؑ ابن ابی طالب علیہ السلام جو کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شاگرد اور داماد ہیں اور انہوں نے براہ راست آپ سے تعلیمات حاصل کی ہیں حضرت امام علی ؑ ان سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ شادی سے انسان کا آدھا دین مکمل ہوجاتاہے ۔

نکاح اصل میں لڑکی اور لڑکے کی رضایت کا نام ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو جیون ساتھی کے طور پر انتخاب کررہے ہوتے ہیں اور شادی کا مطلب یہ نہیں کہ لڑکی لڑکے کے پاس نوکرانی بن کر نہیں آتی بلکہ اس کی جیون ساتھی بن کر آتی ہے ۔ جب تک یہ ایک دوسرے سے پیار ومحبت نہیں کریں گے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک نہیں ہوں گے تو ان کی زندگی پرسکون نہیں بنے گی۔ اب آپ کی بیوی آپ کی زندگی کاحصہ ہے اس سے ہر کام میں مشورہ لیا کریں یہ نہیں کہ بیگم بیچاری صرف آپ کے لئے روٹیاں پکاتی رہے۔تبھی تو آپ ایک دوسرے کا سکون ہو۔اسلام نے سکون کے لئے یہ سلسلہ بنایا ہے۔ ہم توقع کرتے ہین کہ آپ انشاءاللہ ایک دوسرے کا حق ادا کریں گے اور نمازضرور پڑھیں گے اور آپ کو نمازشکرانہ بھی پڑھنی چاہیے کہ آپ کتنے خوش قسمت ہیں کہ آپ کی شادی میں اتنے بڑے بڑے لوگ شریک ہیں، صحافی شریک ہیں تو آپ کو توبڑا خوش ہونا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر آپ کوشکرانے کی نمازپڑھنی چاہیے۔ آپ کو غسل کے احکام کو پتہ ہوناچاہیے۔ 

امام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام 100جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کے4مرحلے مکمل

امام خمینی ٹرسٹ جہاں زندگی کے تمام شعبوں میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے مصروف عمل ہے وہیں 28جولائی 2010ءسے سیلاب زدگان کی خدمت کے لئے بھی شب و روز مصروف عمل ہے، سیلاب زدگان کے لئے جہاں پناہ گاہ فراہم کی گئیں، کھانا تقسیم کیا گیا، افطاریاں دیں گئیں ، خشک راشن تقسیم کیا گیا، گرم ملبوسات اور کمبل فراہم کئے گئے، فری میڈیکل کیمپ لگائے گئے اور پھر لوگوں کو مکان تعمیر کر کے ان کو وہاں بسایا گیا تو اسی سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے سیلاب زدہ ضلعوں (میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، رحیم یار خان اور مظفر گڑھ) میں سیلاب زدہ غریب و نادار افراد کے بچوں اور بچیوں کے لئے اجتماعی شادیوں کا پروگرام بھی بنایا گیا۔ اس سلسلہ میں پہلا پروگرام 12مارچ 2011ءسے پہلا پروگرام ماڑی انڈس میں شروع ہوا جس میں 25دولہے اور دولہنوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا ، اس پروگرام میں دولہے اور دولہنوں کے علاوہ کثیر تعداد میں باراتی بھی شریک تھے جبکہ ان غریب افراد کی شادیوں کی خوشیوں کو دو بالا کرنے کے لئے ضلع بھر کے معززین نے بھی شرکت کی۔ تقریب کو انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا دولہوں کی معاونت کے لئے جامعہ امام خمینی کے طلباءجبکہ دولہنوں کی معاونت کے لئے جامعہ سیدہ خدیجة الکبریٰ کی طالبات موجود تھیں ، تمام دولہوں اور دلہنوں کا نکاح ان کے فقہ کے مطابق پڑھایا گیا ، اہل سنت سے تعلق رکھنے والے دولہے کا نکاح اہل سنت عالم دین جناب مولانا رشید صاحب نے پڑھا جبکہ اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے دولہے کا نکاح علامہ السید افتخار حسین نقوی النجفی نے پڑھایا اس کے بعد تمام دولہوں کو کلے پہنائے گئے اور آخر میں تمام جوڑوں کو 50,50ہزار روپے کا جہیز کا سامان دیا گیا

دوسرا پروگرام ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں 16مارچ 2011ءکو کاٹھ گڑھ سادات میں منعقد کیا گیا، حسب روایت اس پروگرام کو بھی انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا ، گریب وو نادار افراد کے بچوں اور بچیوں کی خوشیوں کو دو بالا کرنے لئے ایک بہت بڑی تعداد میں باراتی اور علاقہ کے معززین تقریب میں شریک تھے جن میں صوبائی وزیر مال جناب مخدوم کاظم، سابقہ تحصیل ناظم سید الطاف حسین شاہ شامل تھے ان کے علاوہ امام خمینی ٹرسٹ کے عہدیداروں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی شامل تھی، تمام دولہے اور دولہنوں کا تعلق ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تھااس تقریب میں تمام پاکستانی ٹی وی چینلز کے نمائندگان بھی شریک تھے تمام دولہوں کااہل تشیع اور اہل سنت کے نکاح ان کے طریقہ کے مطابق پڑھنے کے بعد تمام دولہوں کو کلے پہنائے گئے اس کے بعد تمام باراتیوں کو امام خمینی ٹرسٹ کی طرف سے ولیمہ بھی دیا گیا۔

تیسرا پروگرام20مارچ2011ءکو جامعہ امام حسن مجتبیٰ ضلع رحیم یار خان میں منعقد کیا گیا جس میں 25دولہوں اور دولہنوں کورشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا ، اس تقریب میں حسب روایت اہل تشیع اور اہل سنت دونوں مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے غریب و نادار دولہے اور دلہنوں کا انتخاب کیا گیا جن کو 50,50ہزار روپے کا جہیز کا سامان فراہم کیا گیا ۔

چئیر مین امام خمینی ٹرسٹ علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ امام خمینی ٹرسٹ پچھلے 27سالوں سے غریب و نادار لوگوں کی فلاح و بہبود میں مصروف عمل ہے اور گذشتہ سیلاب کی وجہ سے جو تباہی ہوئی تو امام خمینی ٹرسٹ نے ایک بڑے پیمانے پر لوگوں کو ریلیف فراہم کیا ، انہوں نے کہا کہ اس وقت ان علاقوں میں غربت زیادہ ہونے کی وجہ سے حق دار بہت زیاہ ہیں لیکن ہم صرف اس ضلع میں 25جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا انتطام کر سکتے تھے لیکن جونہی مزید انتظام ہوا تو ہم یہاں پر مزید شادیوں کا بھی بندو بست کریں گے انہوں نے کہا کہ یہاں پر میڈیا کی بھی بہت بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ یہ فرض ادا کریں کہ ان غریبوں کی آواز اہل خیر حضرات تک پہنچائیں تا کہ وہ مزید اس طرح کے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔آخر میں انہوں نے دولہوں کو نئی زندگی کے اچھے آغاز کے لئے چند ہدایات فراہم کیں اور تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔

تقریب کے آخر میں امام خمینی ٹرسٹ کی طرف سے تمام باراتیوں، دولہوں اور دلہنوں کا ولیمہ دیا گیا اور تمام جوڑوں کو 50,50ہزار روپے کا جہیز کا سامان فراہم کیا گیا۔

100جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کا سلسلہ مکمل کرنے کے لئے چوتھا پروگرام ضلع مظفر گڑھ میں 28مارچ کو منعقد کیا گیا جس میں 30دولہوں اور دلہنوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا گیا، اس پروگرام میں علاقہ بھر سے معززین شریک تھے امام خمینی ٹرسٹ کی طرف سے انہیں ولیمہ میں مدعو کیا گیا تھا تقریب کے آخر میں ہر جوڑے کو 50,50ہزار روپے کا سامان فراہم کیا گیا۔

چئیرمین امام خمینی ٹرسٹ نے کہا کہ اگر تمام اہل ثروت حضرات اسی طرح تعاون کریں تو بہت سے لوگوں کا بھلا ہو سکتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ کوئی جتنی بھی رقم دے سکتا ہے چاہے وہ چند روپوں کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو آپ ہمیں دیں ہم انشاءاللہ اس کو غریب و نادار لوگوں کی فلاح و بہبود پر ہی خرچ کریں گے۔

جامعہ امام خمینیؒ میں 32جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب

مورخہ 29مارچ بروز جمعرات 2012ءکوامام خمینی ٹرسٹ کے زیر اہتمام جامعہ امام خمینیؒ ماڑی انڈس میانوالی میںمحسن اینڈفوزیہ جعفرفاﺅنڈیشنu.kاوردی ورلڈ فیڈریشن آفKSIMC انگلینڈکے تعاون سے32 اجتماعی شادیوں کے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔اور اس سلسلہ میں ایک خوبصورت تقریب کا اہتمام کیاگیا۔

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے کیا گیا اس کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے رائل میڈیا نیٹ ورک کے چیئرمین میاں عبد الغفور وٹو نے کہا کہ جہاں پاکستا ن میں افرا تفری کا عالم ہے بیروزگاری و مہنگائی سے عوام نڈھال ہے وہاں یہ اجتماعی شادیوں کا پروگرام کسی معجزہ سے کم نہیں

مخدوم زادہ سید مرید کاظم شاہMPAخیبر پختونخواہ نے کہا کہ ہمیں ایسے علماءکا ساتھ دینا چاہئے جو اس طرح غریب و نادار عوام کی فلاح و بہبود میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اس اہم کارنامے پر امام خمینیؒ ٹرسٹ کے چیئرمین علامہ افتخار نقوی کو خراج عقیدت پیش کرتاہوں۔

چیئر مین تحریک و حدت اسلامی علامہ جا وید اکبر ساقی نے کہا جہاں لوگ پاکستان کو توڑنے کی کو ششیں کر رہے ہیںاور لوگوں میں مایوسی پھیلائی جا رہی ہے وہیں ایسے حالات میںعلامہ سید افتخار حسین نقوی کا یہ کار نامہ کہ انہوں نے تمام مسالک کے لوگوں کو اکٹھا کر کے اتنا عظیم الشان پروگرام منعقد کیا۔جس کے لئے وہ لائق تحسین ہیں۔

ضلع میانوالی کےMNAحمیر حیات خان روکھڑی نے اپنے خطاب میںکہاکہ اس وقت ملکی حالات جس سمت میں چل رہے ہیں اور لوگوں کے درمیان خوف وہراس پیداہورہا ہے ان حالات میں اس طرح کے پروگرام منعقدکرانا عظیم لوگوںکاشیوہ ہے اور علامہ افتخارحسین نقوی ہی وہ ہستی ہیں جو حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔

اس کے بعد 32دو لہوں کا نکاح پڑھایا گیا اور تمام دو لہوں کو کلے پہنائے گئے ،32دلہنوں کو رخصت کرنے کے لئے خیبر پختو نخواہ کی MPAسیدہ سعیدہ بتول بھی موجود تھیں ۔واضح رہے کہ ان 32جوڑوں میںتمام مسالک کے دولہے اوردلہنیںشامل تھیں۔

آخر میں امام خمینیؒ ٹرسٹ کے چیئر مین اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبرعلامہ السید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ میرے لئے یہ انتہائی مسرت کے لمحات ہیں کہ میں ان لوگوں کے لئے خو شیوں کا وسیلہ بنا ہوںمیری کوشش ہوتی ہے کہ میں تمام سر مایہ داروں کے پاس جاﺅں اور آپ غریب لوگوں کے مسائل انہیں سنا کر آپ کے مسائل حل کر سکوں اور یہ میری تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ امام خمینیؒ ٹرسٹ کا ساتھ دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ غریب افراد کی مدد کی ج سکے۔

32دولہوں اور 32دلہنوں کے ساتھ 800 سے زائد باراتی بھی شامل تھے ۔تمام دولہوں اور دلہنوں کو 50ہزار کا سامان دیا گیا جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں موجود تھیں۔32اجتماعی شادیوں کی اس خوبصورت تقریب میںزندگی کے ہرمکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔ 

امام خمینیؒ ٹرسٹ، ماڑی انڈس میانوالی میں21ستمبر2012ءکویوم محمد ، یوم رسالت کی مناسبت سے ماڑی انڈس میں کانفرنساور100جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب

  رپورٹ: سید زاہد عباس

امام خمینیؒ ٹرسٹ جہاں غریب و نادار افراد کے لئے زندگی کے ہر شعبہ میں گراں قدر خدمات سر انجام دے رہا ہے وہیں عرصہ دراز سے غریب و نادار بچیوں کی شادیوں کے لئے جہیز بھی فراہم کر رہا ہے شروع میں لوگوں کی انفرادی شادیاں کرائی جاتیںتھیں اور گھر میں ہی 10تا15ہزار کا جہیز کا سامان دے دیا جاتا لیکن جب یہ سلسلہ بڑھنے لگا تو ان کو ایک تقریب کی شکل دے دی گئی پہلی تقریب 2004میں ہوئی اور تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اب تک اجتماعی شادیوں میں900جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کرائی گئیں جب کہ انفرادی طور پر3900جوڑوں کی شادیوں کے لئے جہیز فراہم کیا گیا۔21

ستمبر کو اس تقریب کا دن رکھا گیا جس میں 100جوڑوں کی اجتماعی شادیاں ہونی تھیں جس میں گورنر پنجاب لطیف کھوسہ، وزیر ریلوے جناب بشیراحمد بلورکے علاوہ سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور متفرق منسٹر و ایم این ے کی شرکت متوقع تھی لیکن حکومت کی طرف سے اس دن کو اسلام مخالف فلم بنانے پر احتجاج کے طور پر منانے کا فیصلہ کر دیا گیا ، اور اس دن کو یوم محمد کا نام دے دیا تو اس دن کو سامنے رکھتے ہوئے چئیر مین امام خمینیؒ ٹرسٹ ماڑی انڈس میانوالی علامہ السید افتخار حسین نقوی نے یہ فیصلہ کیا کہ اس دن یوم محمد کے نام سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جائے جس میں حضرت رسول اکرم کی سیرت پر روشنی ڈالی جائے اور اسلام مخالف فلم بنانے والے کے خلاف احتجاج کیا جائے اور اسی تقریب میں انتہائی سادگی سے شادیوں کی تقریب بھی کی جائے۔

الخدیجة گرلز ڈگری کالج ماڑی انڈس میں اس تقریب کا انعقاد کیا گیا ، تقریب کو انتہائی خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا ، جہاں مہمانوں کے بیٹھنے کے لئے ایک وسیع پیمانہ پر کرسیاں لگی ہوئی تھیں ، اس تقریب میں 2000کے قریب لوگ شریک تھے جبکہ انڈس ماڈل ہائی سکول میں 1000کے قریب خواتین بھی شریک تھیں ، 100دولہوں کے درمیان باہر سے آنے والے مہمان موجود تھے اور سامنے بیٹھے ہوئے 2000باراتی اس احتجاج میں مصروف تھے کہ اسلام مخالف فلم بنانے والے کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تو یہ سب دیکھ کر ایک عجیب سا مزہ آرہا تھا کیونکہ ان شرکاءمیں اہلسنت ، اہل تشیع، دیو بندی، بریلوی کے علاوہ بڑی تعداد میں عیسائی بھی شریک تھے تو بلا شک و شبہ ہر شخص یہ دیکھ کر کہہ رہا تھا کہ یقیناً ناموس رسالت پر نہ صرف مسلمان بلکہ تمام انسان متحدہیں ۔تقریب کے ساتھ ہی 100جوڑوں کے لئے جہیز کا سامان بھی رکھا گیا تھا ، ہر جوڑے

 کو 60تا70ہزار کا سامان دیا جاتا ہے

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا اس کے بعد سٹیج سیکر ٹری غلام قنبر عمرانی نے تمام مہمانوں اور تقریب میں شریک پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کا شکریہ ادا کیا اس کے بعد انہوں نے معزز مہمانوں پریشان گیلانی، ایڈ ووکیٹ سید اقرار حسین شاہ، قائد اہلسنت چئیر مین تحریک وحدت اسلامی لاہور علامہ جاوید اکبر ساقی ، جسٹس شاہنواز اولکھ، ایم پی اے خیبر پختو نخواہ مخدوم زادہ سید مرید کاظم حسین ، والد شہید لیفٹیننٹ سید یاسر عباس، عیسائی پادری سہیل،تحریک انساف کے نمائندہ خورشید انور خان، نوابزادہ ملک فواد خان، عبد الرحمان المعروف ببلی خان اور ملک حمیر حیات خان رو کھڑی کو سٹیج پر مدعو کیا جنہوں نے باری باری سیرت محمد پر روشنی ڈالی اور چئیر مین امام خمینیؒ ٹرسٹ علامہ السید افتخار حسین نقوی کی کوششوں کو سراہا کہ وہ اتنے بڑے پیمانہ پر لوگوں کی بلا مذہب و ملت خدمت کر رہے ہیںکہ اس تقریب میں اہل سنت مسلک کے جوڑے بھی ہیں اور اہل تشیع کے بھی اور عیسائی مذہب کے جوڑے بھی۔

تقریب کے آخر میں چئیر مین امام خمینیؒ ٹرسٹ علامہ السید افتخار حسین نقوی نے شرکاءسے ایک دلفریب و پر جوش خطاب کیا ، میری خواہش ہے کہ تمام قارئین اس خطاب کو ضرور پڑھیں اور اس کو سنیں بھی سہی کیونکہ اگر تمام علماءاس طرح عوام کو خطاب کریں تو وہ دن دور نہیں جب تمام قوم ، تمام پاکستانی متحد ہوں گے

اپنے خطاب میں علامہ السید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ ہمارا دین ، دین اسلام ہے ، دین اسلام ایک ایسا مہذب دین ہے جو تمام مذاہب کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ہمارا مذہب تو ہمیں یہ بھی کہتا ہے کہ تم ان کے جھوٹے خداﺅں کو جھوٹا نہ کہو کیونکہ اس سے وہ تمہارے سچے خداﺅں کو بھی جھوٹا کہیں گے، علام صاحب نے فرمایا کہ اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج ہر مسلمان و پاکستانی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس میں حصہ لے اور بتائے کہ ہم سب مسلمان متحد ہیں اور ہم کبھی حرمت رسول پر آنچ نہیں آنے دیں گے لیکن احتجاج کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنے قومی املاک کو نقصان پہنچائیں ، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہمارے پیسوں سے لگی ہوئی سر کاری عمارتوں، بینک اور اداروں کو نقصان پہنچایا جائے اس سے تو وہ ملعون پادری اور شیطان امریکہ اور خوش ہو گا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو رہا ہے ، ایران، شام و لبنان میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن انہوں نے تو اپنے قومی املاک کونقصان نہیں پہنچایا تو ہم کیسا احتجاج کرنا چاہ رہے ہیں

اس کے بعد انہوں نے تمام جوڑوں کو مبارکباد دی کہ وہ آج رشتہ ازدواج میں منسلک ہو رہے ہیں ، علامہ صاحب نے کہا کہ آپ کی زندگی کا ایک نیا دور شروع کرنے جا رہے ہیں جہاں آپ پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوں گی تو آپ کو چاہئے کہ آپ نماز پڑھیں اور اپنے آپ کو ایک بہترین مسلمان بنائیں اور ان کے لئے دعائیں کریں جنہوں نے آپ کے لئے یہ وسائل فراہم کئے ہیں۔

آخر میں انہوں نے تمام شرکائ، مہمانوں اور میڈیا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔اس کے بعد مہمانوں کو عالی شان ولیمہ کھلایا گیا اور اس کے بعد تمام جوڑے اپنا اپنا سامان لے کر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو گئے، جو میانوالی، ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر اور خوشاب سے تشریف لائے تھے۔

 

امام خمینی ٹرسٹ ماڑی انڈس میانوالی پاکستان اور النور ویلفیئر ٹرسٹ آزاد کشمیر کے زیر اہتمام غریب، نادار اور یتیم بچیوں کی 30اجتماعی شادیاں ہوئیں، اور یہ شادیاں بلاتفریق رنگ و مسلک انجام پائی ہیں، جس میں تمام مسالک کے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ اجتماعی شادیوں کا یہ پروگرام 17 پروگرام 2012ءکو منعقد ہوا جس میں ہٹیاں بالا، کوہالہ ویلی اور مظفر آباد سے تعلق رکھنے والے غریب و نادار بچے اور بچیوں کی شادیاں انجام پائیں۔ اجتماعی شادیوں کی تقریب کی صدارت چیئرمین امام خمینی ٹرسٹ علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کی جبکہ علامہ فرید عباس نقوی نے میزبانی کے فرائض سرانجام دیئے۔ مہمانانِ گرامی میں وزیر جنگلات جاوید ایوب، ڈپٹی اسپیکر آزاد کشمیر اسمبلی کوثر شاہین ڈار ، وزیر آزاد حکومت سلام بٹ ان کے علاوہ اظہر گیلانی ، سید شبیر حسین بخاری، جاوید بڈھانوی، تقدیس گیلانی، سید مہر علی شاہ ایڈووکیٹ و دیگر نے خطاب کیا۔ تقریب میں

 فی جوڑا 70 ہزار روپے کا جہیز فراہم کیا گیا اور بعد ازاں ولیمے کا بھی اہتمام کیا گیا۔

 امام خمینی ؒ ٹرسٹ ماڑی انڈس میانوالی کے زیر اہتمام دی ورلڈ فیڈریشن انگلینڈکے تعاون سے60جوڑوں کی اجتماعی شادیاں انجام پا گئیں۔

اجتماعی شادیوں کی رسم تو امام خمینیؒ ٹرسٹ ماڑی انڈس میانوالی نے ایسی ڈالی کے اب تو نہ صرف پاکستان بلکہ ملک سے باہر بھی مختلف ادارے اسی کی تقلید کرتے ہوئے اجتماعی شادیاں کر رہے ہیں لیکن امام خمینیؒ ٹرسٹ کے چئیر مین علامہ سید افتخار حسین نقوی نے 2004میں غریب و نادار افراد کی اجتمایاں شادیاں کرا کر ایک نئی مثال قائم کر دی پھر یہ سلسلہ جاری رہا اور اب تک امام خمینیؒ ٹرسٹ کے زیر اہتمام سینکڑوں اجتماعی شادیاں انجام پا چکی ہیں ، ا اور آج پھر دی ورلڈ فیڈریشن انگلینڈ کے تعاون سے امام خمینیؒ ٹرسٹ کے زیر اہتمام 60جوڑوں کی اجتماعی شادیاں انجام پا رہی ہیںاجتماعی شادیوں کی یہ تقریب بھی انو کھی ہوتی ہے جس میں ایک خوبصورت سا سماں سجا کے دولہوں کو قلعے پہنا کر بٹھایا جاتا ہے ، دور دور سے مہمانوں کو بلایا جاتا ہے اور باراتیوں کو ولیمہ کا کھانا بھی دیا جاتا ہے ، دلہنوں کو بھی ہر لڑکی کی حسرت کی طرح خوب سجایا جاتا ہے ، ایک عام طبقہ کے فرد کی بیٹی جس طرح ایک عروسی لباس میں دلہن بنتی ہے ایسے ہی یہاں کے غریب ونادار بچیوں کو دلہن بنایا جاتا ہے تا کہ اس کی یہ خواہش دل میں حسرت بن کر ہی نہ رہ جائے

دولہے بھی کم خوش نہیں تھے وہ بھی کہتے ہیں ہم امام خمینیؒ ٹرسٹ کے انتہائی مشکور ہیں کہ جنہوں نے ہماری شادی کے لئے وسائل مہیا کئے اور ہمارے والدین کے سر سے یہ ذمہ داری اتاری

اس کے بعد دولہوں کا اپنے اپنے مکتبہ فکر کے مطابق نکاح پڑھا یاجاتا ہے پھر مقررین خطاب کرتے ہیں جو امام خمینیؒ ٹرسٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہیں اور امام خمینیؒ ٹرسٹ کے چئیر مین علامہ سید افتخار حسین نقوی کو سلام پیش کرتے بنا نہیں رہ پاتے اس کے بعد علامہ سید افتخار حسین نقوی کا انتہائی پر جوش ، پر وقار دلفریب اور نئے جوڑوں کے لئے نئی زندگی گزارنے کے اصولوں سے بھرا خوبصور ت خطاب ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ

اسلام دین محبت ہے ہر کسی کو چاہئے کہ وہ محبتیں بکھیریں ایک دوسرے کے کام آئے مدد کے لئے کسی بڑے سرمایہ کی ضرورت نہیں اگر کوئی چاہئے تو کسی کو ایک گلاس پانی پلا کر بھی مدد کر سکتا ہے اور کوئی کسی کو ہینڈ پمپ لگوا کر مدد کر سکتا ہے اسلام میں لوگوں کی فلاح و بہبود کو بہت اہمیت دی گئی ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ اگر کوئی مر رہا ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک جڑ ہو تو وہ بھی لگا دے تو اس سے بننے والا درخت اس کو نیکیاں پہنچاتا رہے گا انہوں نے اگر کوئی غریبوں اور یتیموں کی شادیاں کرانا چاہتا ہے کوئی لوگوںکو پانی کی ٹربائن لگا کے دینا چاہتا ہے کوئی سکول یا کالج بنانا چاہتا ہے تو امام خمینی ٹرسٹ کا ساتھ دیں ، امام خمینی ؒ ٹرسٹ آپ کی رقم صحیح جگہ پر خرچ کرے گااور پھر یہ یہ دولہے اور دلہنیں ان کی ایک خوبصورت دعا لیتے ہیں۔

جس کے بعد ہر دولہا اپنے باراتیوں کے ہمراہ دلہن کا جہیز لئے اپنے گھر کی طرف ایک نئے سفر کی طرف رواں دواں ہو جاتا ہے ، اس منظر کو دیکھ کر تو دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اے خدا دینے والوں کو اور بھی دے ، بانٹنے والوں کی ہمت اور بڑھا کہ کہیں سے تو غریب و نادار کو سکون پہنچ رہا ہےامام خمینیؒٹرسٹ کے زیر اہتمام ماڑی انڈس میانوالی میں100جوڑوں کی اجتماعی شادیاںامام خمینیؒٹرسٹ کے زیر اہتمام ماڑی انڈس میانوالی میں100جوڑوں کی اجتماعی شادیاں انجام پا گئیں ،چئیر مین امام خمینیؒ ٹرسٹ نے شادیوں کی اس تقریب کومیجر جنرل ثناءاللہ خان شہید کے نام کیا، تقریب میں ن لیگ کے ایم این حاجی عبید اللہ خان،نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان، سابق صوبائی وزیر نصرت مرزا،قائد اہلسنت علامہ جاوید اکبر ساقی، سابق ناظم ملک سرفراز خان، سابق ناظم سید الفت حسین کے علاوہ دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب میں اسٹیج پر بھیٹے ہوئے سو دولہے بہت خوبصورت نظر آرہے تھے۔تو دوسری جانب100دلہنیں ایک جگہ پر موجود تھیں ،دولہوں اور دولہنوں کے لئے علیحدہ علیحدہ تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں تقریباً3000سے زائد مہمانوں اور باراتیوں نے بھی شرکت کی۔

عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے دولہوں اور دلہنوں کے نکاح پطرس مسیح نے پڑھائے جنہوں نے اپنے مخصوص طریقہ کے مطابق دولہوں اور دلہنوں سے اقرار لیا اور دعائیں کئیں جبکہ اہل سنت دولہوں کا نکاح اہل سنت عالم دین نے پڑھایا اور سید مسلم رضا کا نکاح علامہ سید افتخار حسین نقوی نے پڑھایا

تمام جوڑوں کو 70ہزار روپے کا جہیز کا سامان دیا گیا ،تمام دولہے اور دلہنیں بہت خوش دکھائی دے رہے تھے جن کا کہنا تھا کہ امام خمینیؒ ٹرسٹ کے بہت شکر گزار ہیںکہ ان کی شادی کا بندو بست کر کے ان کی مشکل حل کر دی

تقریب سے سابق ناظم سید الفت حسین، سابق ناظم حاجی سرفراز خان ، ایم این اے حاجی عبید اللہ خان شادی خیل ، صوبائی وزیر سندھ اور قائد اہلسنت علامہ جاوید اکبر ساقی کے علاوہ دیگر معززین نے خطابات کئے جنہوں نے اپنے اپنے خطابات میں امام خمینیؒ ٹرسٹ کی کاوشوں کو سراہا علامہ سید افتخار حسین نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اِن 100جوڑوں کی شادیوں کے لئے وسائل فراھم کر رہے ہیں کیونکہ وہی ان کے ملاپ کا ذریعہ بن رہے ہیں اور جب تک یہ جوڑے اچھے کام سر انجام دیتے رہیں گے تب تک انہیں ثواب در ثواب ملتا رہے گا ، علامہ سید افتخار حسین نقوی نے دولہوں سے مخاطب ہوئے کہا کہ میں مبارکباد دیتا ہوں تمام دولہوں اور دلہنوں کو جو نئی زندگی کا آغاز کرنے جا رہے ہیں لیکن یہاں پر میں دولہوں کو کہوں گا کہ تمہاری بیویاں تمہارے گھر میں اللہ تعالی کی کنیزیں ہیں لہٰذا تم نے انہیں بھی وہی حقوق دینے ہیں جو ماں باب کو دیتے ہو آخر میں انہوں نے اس تقریب کو میجر جنرل ثناءاللہ خان شہید کے نام کرتے ہوئے کہا کہ جنرل ثناءاللہ خان نے پاکستان سمیت اور خصوصاََ پورے اہالیان میانوالی کا سر فخر سے بلند کیا، ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے اور ہم ان کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیںکر سکتے

آخر میں علامہ سید افتخار حسین نقوی نے دولہوں اور دلہنوں کی نئی زندگی کی شروعات ، شادی کے لئے وسائل فراہم کرنے والے افراد ، افواج پاکستان کی سر بلندی کے لئے دعائیں کیں ۔

عوام کا اس موقع پر کہنا تھا کہ مہنگائی کے اس ہو شربا دور میں بلا مسلک و مذہب تمام جوڑوں کو 70ہزار روپے کا جہیز فراہم کرنا جہاں قابل ستائش ہے وہیں اہل ثروت حضرات کو بھی دعوت ہے کہ وہ آئیں اورامام خمینیؒ ٹرسٹ جیسے اداروں کی مدد کر کے دکھی افراد کا سہارا بنیں

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.