ھل من ناصر
اللہ کا دین
قربان جاوں میسم
سوگواران حسین علیہ اسلام
یا حسین علیہ زندہ باد
اے قوم کے بزرگو
دلوں میں ایک خوف ہے
مظہر وفا خون سے لکھا
یا مصطفی صلی اللہ یا مرتضی علیہ اسلام
شاہ مرداں، شیر یزداں
تیر آتے ہیں
درمیاں لاشوں کے
آئیے اپنے مولا
ہائے حسین علیہ اسلام
یا صاحب الزمان علیہ اسلام
لبیک یا حسین علیہ اسلام
چلو ہمھیں کربلا بلاتی ہے
عباسعلیہ کا علم ہے
لبیک یا حسینعلیہ
نعرہ حیدری یا علیعلیہ
شبیرعلیہ کے مکتب کو
اے نا خدائے کشتی
خدارا یا امامعلیہ
یا الٰہی قائم رہے یہ ماتم
فکر حسینعلیہ دین محمد صلی اللہ کی بقا ہے
ماں نے رو رو کر کہا
شام کے بازاروں میں
خدا حافظ میری جانی میرے اکبر
حسینعلیہ حسینعلیہ شہریار امام شہادت
عباسعلیہ ہوں میں عباسعلیہ
ہائے فاطمہعلیہ صغریٰ
ہائے میری بہن
دستور شجاعت
فرق علی علیہ
کربلا آج بھی ہے
میں روح کربلا
یا حضرت صاحب الزمانعلیہ ادرکنی
ہائے یا زاہرہ علیہ
اللہ اکبر
اے حسین علیہاے فاطمہ علیہ کے نور
اے خدا
کیوں نہ لائے پانی
ملت کے نوجوان
سجاد وطن جایے ہیں
توڑا ہے نجدیوں نے
اللہ اکبر شہیدو تم سے باقی ہے
لاش اکبرعلیہ جو مقتل سے اٹھا لائے ہیں
رن میں یہ صدا دیتی تھی
ائے حسین علیہ آ جاو
پرچم عباسعلیہ
ائے آدمعلیہ کے وارث
اے ابا عبداللہ